لاہور میں پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت کو گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مطالبے سے پہلے ہی انہیں این ایف سی میں حصہ دینا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ انتخابات کے لیے میرٹ پر بہترین امیدواروں کا انتخاب کیا جائے اور اندرونی جھگڑوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر لڑائی جھگڑے پارٹی کو نقصان پہنچاتے ہیں، اس لیے جو لوگ ایسے تنازعات میں ملوث ہوں گے، انہیں انتخابی عمل سے باہر رکھا جائے گا۔
نواز شریف نے کہا کہ پارٹی کے فیصلے مکمل طور پر میرٹ پر ہونے چاہئیں، اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ہونے والی سرمایہ کاری این ایف سی سے ملنے والی ممکنہ رقم سے بھی زیادہ ہے۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت–سکردو ہائی وے پر 50 ارب سے زائد خرچ کیا گیا، جو این ایف سی سے آنے والے ممکنہ فنڈ سے زیادہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں علاقوں کو ان کے حق کے مطابق مستقل فنڈ ملنے چاہئیں، اور فنڈز کا اجرا کسی کے ذاتی فیصلے پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت چاہے تو اضافی رقم بھی دے سکتی ہے، لیکن بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ آیا صوبوں میں اتنی مالی گنجائش اور انتظامی صلاحیت موجود ہے یا نہیں، کیونکہ اکثر فنڈز مناسب طریقے سے استعمال نہیں ہو پاتے۔
نواز شریف نے پارٹی ذمہ داران کو ہدایت دی کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات کے لیے امیدواروں کی درخواستیں وصول کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود مظفرآباد، گلگت یا سکردو جا کر امیدواروں سے ملاقات کریں گے تاکہ بہتر سیاسی معلومات حاصل ہو سکیں اور ٹکٹوں کے فیصلے باقاعدہ مشاورت کے بعد کیے جائیں۔





