خیبر پختونخوا میں 63 میگاواٹ کے تین پن بجلی منصوبے مکمل، سالانہ 4.4 ارب روپے آمدن متوقع

0
492

خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے وسائل سے 63 میگاواٹ کے تین پن بجلی منصوبے کامیابی سے مکمل کر لیے ہیں، جن کی بدولت صوبے کو سالانہ 4.4 ارب روپے آمدن حاصل ہوگی۔

حکام کے مطابق سوات کوریڈور میں 40 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن بچھانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے، جو آئندہ سال مکمل کر لیا جائے گا۔ اس منصوبے کی تکمیل سے صوبے کے صنعتی شعبے کو سستی بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

ان خیالات کا اظہار سیکرٹری توانائی و برقیات نثار احمد نے پیڈو ہاؤس میں پن بجلی کے سات اہم جاری منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں چیف ایگزیکٹو پیڈو حبیب اللہ شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال 63 میگاواٹ کے تین اہم منصوبے مکمل کیے گئے ہیں، جن میں 40.8 میگاواٹ کوٹو دیر، 11.8 میگاواٹ کروڑہ شانگلہ اور 10.2 میگاواٹ جبوڑی مانسہرہ شامل ہیں۔

اجلاس کو 300 میگاواٹ بالاکوٹ مانسہرہ، 157 میگاواٹ مدین سوات، 88 میگاواٹ گبرال کالام، 84 میگاواٹ مٹلتان سوات، 69 میگاواٹ لاوی چترال اور 6.9 میگاواٹ مجاہدین پاور پراجیکٹ تورغر پر ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

سیکرٹری توانائی نے ضلع سوات میں توانائی کے تین فلیگ شپ منصوبوں پر کام کی سست رفتار پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں سے 330 میگاواٹ بجلی کی پیداوار آئندہ دو برس میں شروع کرنے کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی ہے۔

انہوں نے متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ منصوبے مقررہ وقت کے اندر مکمل کیے جائیں، بصورت دیگر کسی قسم کی تاخیر ناقابل برداشت ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام امور ٹیم ورک کے تحت نمٹائے جائیں کیونکہ محکمہ توانائی صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت گین چارٹ کے ذریعے تمام منصوبوں کی روزانہ بنیاد پر فزیکل پراگریس کی نگرانی کر رہا ہے۔

اس موقع پر سیکرٹری توانائی نے مٹلتان سے مدین تک 40 کلومیٹر طویل 132/220 کے وی ٹرانسمیشن لائن منصوبے کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے اسے آئندہ سال مقررہ مدت میں ہر صورت مکمل کرنے کی ہدایت کی، جبکہ صوبے کے سب سے بڑے 300 میگاواٹ بالاکوٹ منصوبے پر بھی کام مزید تیز کرنے کے احکامات جاری کیے۔

اجلاس میں پیڈو کے انتظامی امور کو مزید شفاف بنانے کے لیے بھی ضروری ہدایات جاری کی گئیں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا