معاشی بحران سے آئی ایم ایف نہیں، کراچی نکال سکتا ہے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال

0
519

کراچی: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی بحران سے آئی ایم ایف نہیں بلکہ کراچی نکال سکتا ہے، تاہم اس کے لیے شہر کو اس کا حق دینا ہوگا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ وہ شہرِ قائد کی صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں، جو سینٹرل ایشیا کا گیٹ وے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں 90 فیصد شہری پینے کا پانی خرید کر پینے پر مجبور ہیں، جبکہ لائنوں سے پانی چوری کر کے شہریوں کو ہی فروخت کیا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ کراچی دودھ دینے والی گائے ہے، مگر اسے چارہ نہیں دیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی چوری جیسے سنگین مسائل کے پیچھے بااثر لوگ ملوث ہیں۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ بیرونی دشمن نہیں بلکہ اندرونی کمزوریاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کراچی چلے گا تو پاکستان چلے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بطور میئر کراچی انہوں نے 30 ہزار کروڑ روپے کے ترقیاتی کام کرائے اور ان پر آج تک ایک روپے کی کرپشن بھی ثابت نہیں ہو سکی۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم واحد جماعت ہے جس نے اپنے ہی لیڈر کو فارغ کیا۔ ہم نے ’’جی بھائی، جی بھائی‘‘ کی سیاست کو چھوڑ کر بغاوت کی، اور یہ فیصلہ کسی کے دباؤ پر نہیں بلکہ خود کیا گیا۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں مضبوط مقامی حکومتوں کا نظام ہوتا ہے، جبکہ پاکستان میں مقامی حکومتوں کا نظام محض ایک فراڈ بن چکا ہے۔ ملکی ترقی کے لیے بااختیار لوکل گورنمنٹ سسٹم ناگزیر ہے۔

مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ این ایف سی ایوارڈ سے فنڈز لیتے ہیں، مگر اضلاع کو ان کا حق نہیں دیا جاتا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ڈسٹرکٹ سطح کے فنڈز براہ راست اضلاع کو منتقل کیے جائیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا