طالبان نے بغیر محرم مارکیٹ آنیوالی خواتین پر پابندی عائد کر دی

0
381

طالبان حکومت نے افغانستان اور ازبکستان کے درمیان قائم مشترکہ سرحدی تجارتی و عوامی مارکیٹ کے حوالے سے ایک اہم اعلان کیا ہے، جس کے تحت بغیر محرم کے آنے والی خواتین کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے شمالی صوبے بلخ کے سرحدی علاقے حیرتان میں ازبکستان کے ساتھ ایک مشترکہ مارکیٹ قائم ہے، جہاں بڑی تعداد میں افغان شہری، بالخصوص خواتین، خریداری اور دیگر امور کے لیے آتی ہیں۔

تاہم طالبان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اب اس مارکیٹ میں بغیر محرم کے آنے والی خواتین کو داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مقامی میڈیا کے مطابق مارکیٹ کی سیکیورٹی پر مامور طالبان اہلکار ایسی خواتین کو روک رہے ہیں جو کسی مرد سرپرست کے بغیر وہاں پہنچتی ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جن خواتین کے ساتھ مرد موجود ہوتے ہیں، ان سے رشتہ ثابت کرنے کے لیے دستاویزات طلب کی جاتی ہیں، جبکہ محرم ہونے کا ثبوت فراہم نہ کرنے والے مردوں کو بھی مارکیٹ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

حیرتان کے مقامی رہائشیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض اوقات طالبان اہلکاروں کا رویہ انتہائی سخت اور توہین آمیز ہوتا ہے۔ ایک مقامی افغان شہری نے میڈیا کو بتایا کہ اپنی ہی سرزمین پر انہیں ایسا سلوک برداشت کرنا پڑ رہا ہے جو بعض اوقات سرحد پار ازبک حکام کے رویے سے بھی زیادہ سخت محسوس ہوتا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس سرحدی مارکیٹ میں آنے والی خواتین کی بڑی تعداد عمر رسیدہ ہوتی ہے، جو ازبکستان اور روس میں علاج معالجے کے لیے بھی سفر کرتی ہیں، اور نئی پابندی سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

طالبان حکام کی جانب سے تاحال اس پابندی کے حوالے سے کوئی واضح اور باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا