پاکستان معاشی استحکام کے بعد برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے، وزیر خزانہ

0
587

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان ایک اہم معاشی موڑ پر پہنچ چکا ہے اور معاشی استحکام کے بعد اب ملک برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

امریکی جریدے یو ایس اے ٹوڈے کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پالیسیوں میں تسلسل کے باعث ملکی اور عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان نے کئی برسوں بعد پرائمری بجٹ سرپلس اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ چکی ہے، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر 14.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت معیشت کو کھپت پر مبنی ماڈل سے نکال کر برآمدات پر مبنی ماڈل کی طرف منتقل کر رہی ہے۔ آئی ٹی برآمدات 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور آئندہ پانچ برسوں میں ان کے دوگنا ہونے کا امکان ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس نظام، توانائی کے شعبے اور سرکاری اداروں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، جبکہ نجکاری اور ٹیرف اصلاحات سے پاکستان کی عالمی منڈی میں مسابقت میں اضافہ ہوگا۔

محمد اورنگزیب کے مطابق عالمی بینک نے پاکستان کے لیے “ایسٹ ایشیا مومنٹ” کا تصور پیش کیا ہے جو برآمدات پر مبنی ترقی کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

وزیر خزانہ نے خواتین کی تعلیم اور لیبر فورس میں شمولیت کو معاشی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون ضروری ہے۔

انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ زراعت، معدنیات اور ڈیجیٹل معیشت سرمایہ کاری کے ترجیحی شعبے ہیں، جبکہ ٹیتھیان کاپر بیلٹ عالمی سرمایہ کاروں کی خصوصی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے اور اب بحرانوں سے نکل کر مواقع کی معیشت میں تبدیل ہو رہا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا