برطانیہ کے علاقے بریڈ فورڈ کی رہائشی پاکستانی نژاد سدرہ نوشین کو ایک کروڑ ڈالر مالیت کی ہیروئن اسمگلنگ کے مقدمے میں ساڑھے 21 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے، جس کے بعد انہیں ملک بدر بھی کیا جائے گا۔
برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق سدرہ نوشین پاکستان سے برطانیہ ہیروئن اسمگل کرنے والے ایک منظم نیٹ ورک کا اہم حصہ تھیں۔ ان کے گھر سے منشیات کپڑوں، بالٹیوں، وال پیپرز اور بیگز میں چھپا کر برآمد کی گئی تھی۔
تحقیقات کے دوران سدرہ کے موبائل فون سے پاکستان میں موجود سہولت کاروں کے ساتھ سینکڑوں پیغامات ملے، جن میں منشیات کی ترسیل اور تقسیم کے منصوبے زیرِ بحث تھے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ سدرہ نوشین نے کئی کلوگرام منشیات مختلف افراد تک پہنچائیں اور ایک موقع پر انہیں بریڈ فورڈ کے ایک مجرمانہ گروہ سے ڈھائی لاکھ پاؤنڈ بھی ملے۔
بریڈ فورڈ کراؤن کورٹ میں سدرہ نوشین نے ہیروئن درآمد اور سپلائی کے الزامات تسلیم کر لیے۔ سزا سناتے ہوئے جج نے کہا کہ بظاہر سادہ زندگی گزارنے والی سدرہ نوشین درحقیقت ایک بڑی منشیات سازش کا مرکزی کردار تھیں، جنہوں نے دولت کی خاطر معاشرے کو شدید نقصان پہنچایا۔





