بھارتی اخبار دی ہندو نے 2025 کو بھارت کے لیے سفارتی ناکامی کا سال قرار دے دیا

0
499

بھارت کے مؤقر جریدے دی ہندو نے 2025ء کو بھارت کے لیے عالمی سطح پر سفارتی ناکامیوں کا سال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نریندر مودی حکومت سے وابستہ بلند توقعات حقیقت کا روپ نہ دھار سکیں۔

دی ہندو کے مطابق 2025ء میں بھارتی خارجہ پالیسی وعدوں اور دعوؤں پر پورا نہ اتر سکی۔ اخبار نے اس سال کو ’’وعدوں کے بکھرنے‘‘ کا سال قرار دیتے ہوئے لکھا کہ علامتی سفارت کاری، ذاتی تعلقات اور بیانیہ سازی حقیقی معاشی، عسکری اور سفارتی طاقت کا نعم البدل ثابت نہ ہو سکیں۔

اخبار کے مطابق بھارت نے نہ صرف خود سے بلکہ عالمی شراکت داروں سے بھی ایسے وعدے کیے جن پر عملدرآمد کے لیے اس کے پاس مؤثر اثر و رسوخ اور قوت موجود نہیں تھی۔ امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے 2025ء بھارت کے لیے اس صدی کا مشکل ترین سال ثابت ہوا۔

دی ہندو نے لکھا کہ امریکا کی جانب سے 25 فیصد ٹیرف، روسی تیل پر اضافی پابندیاں اور H-1B ویزا پابندیوں نے یہ ثابت کر دیا کہ واشنگٹن کے ساتھ بھارت کی شراکت مفاداتی اور مشروط ہے۔ اخبار کے مطابق 2017ء کے مقابلے میں 2025ء کی امریکی نیشنل سکیورٹی اسٹریٹجی میں بھارت کو محدود کردار تک سمیٹ دیا گیا ہے۔

اخبار کے مطابق چین اور روس کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے باوجود لائن آف ایکچول کنٹرول پر کوئی ٹھوس سکیورٹی پیش رفت نہ ہو سکی، سرمایہ کاری کی رکاوٹیں برقرار رہیں اور بھارت محض علامتی موجودگی تک محدود رہا۔ امریکی دباؤ کے باعث بھارت کو روسی تیل کے معاملے پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

دی ہندو نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو سنگین سکیورٹی ناکامی قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ پہلگام حملے کے بعد بھارتی عسکری کارروائیوں کو عالمی سطح پر سفارتی حمایت حاصل نہ ہو سکی۔

اخبار نے مزید لکھا کہ آپریشن سندور کے بعد طیاروں کے نقصانات پر خاموشی نے بھارت کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا، جبکہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کے اعلان کو بھارت کے لیے ایک اور دھچکا قرار دیا گیا۔ بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی قیادت کو اب سخت گیر اور منظم صلاحیتوں کی حامل تسلیم کیا جا رہا ہے۔

دی ہندو نے اعتراف کیا کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور حکومت کو خبردار کیا کہ بھارت ’’وشو گرو‘‘ کے بیانیے سے نکل کر ’’وشو وکٹم‘‘ کی جانب بڑھ رہا ہے۔

اخبار کے مطابق دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانا اصلاحات اور حقیقت پسندانہ پالیسی سازی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔

سیاسی اور سفارتی ماہرین کے مطابق دی ہندو کا یہ تجزیہ بھارت کی کمزور سفارت کاری کو بے نقاب کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ محض دکھاوے پر مبنی سفارت کاری سے عملی نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے، جبکہ یہ اعتراف پاکستان کے اس مؤقف کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی زیادہ تر آپٹکس پر مبنی رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق دی ہندو کا یہ تجزیہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت اب امریکا کے لیے ناگزیر اسٹریٹجک شراکت دار نہیں رہا، جبکہ بھارت کا ڈیٹرنس بیانیہ عالمی سطح پر قائل کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔

سیاسی و سفارتی تجزیہ کاروں نے کہا کہ بعض ممالک کی جانب سے پاکستان کی عسکری کارروائیوں کی حمایت کے اعتراف سے بھارت کی سفارتی ناکامی واضح ہو گئی ہے اور پاکستان عالمی سطح پر تنہا نہیں۔

ماہرین نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے حقوق پر آواز اٹھانے والے بھارت کو اپنے ملک میں اقلیتوں پر حملوں کی روک تھام اور مذمت بھی کرنی ہوگی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا