بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی، دریائے چناب پر دلہستی سٹیج ٹو منصوبے کی منظوری

0
755

نئی دہلی: بھارت نے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر دلہستی سٹیج ٹو پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس پر پاکستان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

بھارتی اخبار کے مطابق یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں برس اپریل میں پہلگام حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ دہائیوں پرانے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر رکھا ہے۔ ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں سے متعلق ماہرین کی کمیٹی نے رواں ماہ کے آغاز میں ہونے والے اپنے 45ویں اجلاس میں اس منصوبے کی منظوری دی۔

اجلاس کی کارروائی کے مطابق کمیٹی نے اعتراف کیا کہ اگرچہ دریائے چناب کے پانی کی تقسیم سندھ طاس معاہدے کے تحت طے تھی اور منصوبے کے ابتدائی خدوخال بھی اسی معاہدے کی بنیاد پر بنائے گئے تھے، تاہم موجودہ صورتحال میں بھارت نے پالیسی تبدیل کر لی ہے۔

کمیٹی کی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا کہ 23 اپریل 2025 کے بعد سندھ طاس معاہدہ معطل تصور کیا جا رہا ہے، جس کے بعد بھارت اس خطے میں پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو سندھ، جہلم اور چناب جبکہ بھارت کو راوی، بیاس اور ستلج کے دریاؤں کے پانی کے استعمال کا حق حاصل تھا۔ بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر نئے منصوبے کی منظوری کو معاہدے کی روح کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔

دلہستی سٹیج ٹو منصوبہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعمیر کیا جائے گا جس سے 260 میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔ منصوبے پر 3 ہزار 277 کروڑ 45 لاکھ بھارتی روپے لاگت آئے گی اور اس پر عملی کام آئندہ سال کے آغاز میں شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ منصوبہ بھارت کی سرکاری کمپنی این ایچ پی سی لمیٹڈ تیار کرے گی۔

ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کے لیے دفاعی اور تزویراتی لحاظ سے نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ دریائے چناب پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں میں شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کی یہ کارروائی سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے جسے حال ہی میں یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

دلہستی سٹیج ٹو منصوبے میں دلہستی سٹیج ون کے موجودہ ڈھانچے کو استعمال کیا جائے گا۔ 390 میگاواٹ کا دلہستی سٹیج ون منصوبہ 2007 میں مکمل ہوا تھا اور یہ رن آف دی ریور اسکیم کے تحت کام کر رہا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا