یمن نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا، فوجی فورسز کو ملک چھوڑنے کی ہدایت

0
456

یمن کی صدارتی قیادت نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ دفاعی تعاون کا باب بند کرتے ہوئے مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کے مطابق ملک میں موجود یو اے ای کی تمام فوجی فورسز کو 24 گھنٹوں کے اندر یمن چھوڑنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق، رشاد العلیمی نے بتایا کہ قومی سلامتی کے پیش نظر یمن کی تمام بندرگاہوں اور زمینی و بحری راستوں پر 72 گھنٹوں کے لیے مکمل فضائی، زمینی اور بحری ناکہ بندی نافذ کی جا رہی ہے۔ یہ اقدامات ملکی خودمختاری کے تحفظ اور غیر مجاز فوجی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کی قیادت میں عسکری اتحاد نے یمن میں محدود فضائی کارروائی کی، جس کے دوران مکلا بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی اتحاد کا موقف ہے کہ یہ کارروائی یو اے ای کی حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسند گروپ، سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی)، کو دی جانے والی غیر ملکی فوجی معاونت کے خلاف کی گئی۔

دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ یو اے ای کی حالیہ کارروائیاں خطرناک ہیں اور خطے کے استحکام کے لیے سنگین خدشات پیدا کر سکتی ہیں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تحمل اور مکالمے کی ضرورت ہے۔

یمن اور یو اے ای کے درمیان دفاعی معاہدے کی منسوخی اور فوری انخلا کے اعلان نے خطے کی سیاسی اور عسکری صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے اثرات علاقائی سیاست پر نمایاں ہونے کا امکان ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا