اظہر سید
محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کا سب کو پتہ تھا ۔بی بی کو بھی پتہ تھا ان کے قتل کی سازش تیار ہو چکی ہے ۔کارساز خودکش حملہ میں بینظیر بھٹو کو جو تھوڑا بہت شک تھا وہ بھی دور ہو گیا تھا ۔محترمہ بینظیر بھٹو شہادت سے کچھ روز پہلے شائد دو تین ہفتے پہلے دوبئی گئی تھیں ۔اسلام آباد ائر پورٹ پر دو مرتبہ کی سابق وزیراعظم کو گرین پاسپورٹ ہونے کے باوجود پاسپورٹ میں چند ٹیکنیکل وجوہات کی بنا پر روک لیا گیا تھا لیکن ایک آدھ گھنٹے کے بعد جانے دیا گیا تھا ۔
شائد بی بی کو شہید کرنے کے درپے چند طاقتور سمجھے تھے بی بی واپس نہیں آئے گی ۔
محترمہ بینظیر بھٹو کو ایک خلیجی ملک کی طرف سے خط لکھا گیا قتل کی سازش کے متعلق بتایا گیا۔یہ خط بی بی کی صدارت میں پارٹی کے چار مرکزی راہنماؤں کے اجلاس میں ڈسکس بھی ہوا ۔
رات گئے ایجنسی کے جنرل صاحب بی بی کو خود بتانے آئے صبح جلسہ میں حملہ کی اطلاع ہے ۔لیاقت باغ مت جائیں جلسہ ملتوی کر دیں ۔
افغان صدر حامد کرزئی ایک روزہ دورہ پر اسلام آباد محترمہ بینظیر بھٹو کو صرف یہ بتانے آئے انکے قتل کی سازش تیار ہے ۔سرینا ہوٹل میں بی بی اپنی شہادت سے چند گھنٹے قبل افغان صدر سے جا کر ملیں ۔
بی بی کے قتل کیلئے طالبان کی صفوں میں سے قاتل تیار کئے گئے تھے ۔جن طاقتور ہاتھوں نے یہ قاتل تیار کئے اس پاس یعنی طالبان کی صفوں میں دیگر ممالک کی ایجنسیوں کے ہاتھ بھی موجود تھے ۔اطلاع لیک ہو چکی تھی ۔خلیجی ملک یا افغان صدر یا پاکستان کی اپنی ایجنسی نے بی بی کو اگر حملہ کی پیشگی اطلاع دے دی تو وہ یہی لیک تھی ۔
آصف علی زرداری نے تو پوسٹ مارٹم کی اجازت بی بی کے تقدس کو برقرار رکھنے کیلئے نہیں دی لیکن جن کے پاس ریاست کے سارے اختیار تھے انہوں نے دو مرتبہ کی وزیراعظم کا پوسٹ مارٹم خود کیوں نہیں کیا ۔
جس آصف علی زرداری کو گیارہ سال جیل میں رکھ کر اس کی جوانی چھین لی وہ اتنا محترم کیسے بنا لیا کہ اس کے کہنے پر پوسٹ مارٹم نہیں کیا۔
اگر پوسٹ مارٹم ہو جاتا ڈرامہ نہ ہوتا گاڑی کے لیور سے شہادت ہوئی ہے ۔شائد پتہ چل جاتا لیزر گن استمال ہوئی ہے یا پھر خودکش حملہ اور کے پھٹنے کے ساتھ ہی گاڑی کے ساتھ موجود بندوق بردار کا نشانہ بہت سچا تھا ۔
آصف علی زرداری نے پوسٹ مارٹم سے منع کیا تھا جائے وقوعہ دھونے اور شواہد مٹانے کا فیصلہ تو آصف علی زرداری کا نہیں تھا۔
جھنڈا چیچی پر جنرل مشرف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو جائے وقوعہ کئی روز تک نہیں دھویا گیا ۔قاتلوں کا سراغ لگا لیا گیا ۔پیچھے موجود مہرے بھی پکڑ لئے گئے ۔بی بی کے قتل میں ملوث مہرے تو پکڑے گئے لیکن پیچھے موجود چہرے نقاب میں ہی رہے ۔
سرکاری پراسیکیوٹر چوہدری ذوالفقار کو اسلام آباد میں آصف علی زرداری نے تو قتل نہیں کرایا تھا ان قاتلوں کے پیچھے کون تھا۔
پراسرار اشارے کرنے والے خالد شہنشاہ کو بیرون ملک بھیجنے کی آصف علی زرداری کی کوشش ناکام بنانے والے کون تھے ۔خالد شہنشاہ کو قتل کرنے والے کون تھے ۔
محترمہ بینظیر بھٹو کا قتل افغان طالبان کے مستقبل کے حوالہ سے تھا ۔
بی بی کی سوچ واضح تھی ۔پیپلز پارٹی کا اقتدار سنبھالنا اور بی بی کا وزیراعظم بننا بھی واضح تھا ۔
عالمی اسٹیبلشمنٹ اور اس کے مہرے بی بی کو خطرہ سمجھتے تھے افغانستان کے حوالہ سے بی بی عالمی اسٹیبلشمنٹ کے راستے میں رکاوٹ ہو گی ۔
محترمہ بینظیر بھٹو اس غلط فہمی میں ماری گئیں انہیں قتل نہیں کیا جائے گا ۔یا پھر بی بی جان بوجھ کر مقتل میں گئی تھیں ۔اکبر بگٹی اور بھٹو دونوں کو پتہ تھا انہیں مار دیا جائے گا ۔دونوں نے موت قبول کر لی ۔شاید بی بی نے بھی جان بوجھ کر وہی راستہ اختیار کیا۔






