اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دس لاکھ سے زائد نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نظام میں شامل کیا جا چکا ہے، جبکہ ملکی معیشت کو درست سمت میں ڈال دیا گیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ اقتصادی گورننس اصلاحات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج کا دن محض اصلاحاتی پروگرام کے آغاز کا نہیں بلکہ غوروفکر اور عزم کی تجدید کا دن ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب حکومت سنبھالی تو معیشت شدید چیلنجز کا شکار تھی، افراطِ زر بلند سطح پر تھا، زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے تھے اور معاشی اصلاحات ایک مشکل مرحلہ تھیں، تاہم تمام تر مشکلات کے باوجود معیشت کو درست سمت میں ڈالا گیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برسوں میں پاکستان نے نمایاں معاشی بہتری حاصل کی، افراطِ زر تقریباً 30 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد تک آ گیا، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر 9.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 21.2 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔
شہباز شریف نے بتایا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3.3 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.9 ارب ڈالر کے سرپلس میں تبدیل ہو چکا ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً 8 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد سے زائد ہو گیا ہے اور دس لاکھ سے زیادہ نئے ٹیکس دہندگان نظام کا حصہ بنے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2025 میں ٹیکس وصولیوں میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری جیسے مشکل مگر ناگزیر فیصلے کامیابی سے مکمل کیے گئے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام کے لیے اصلاحات ناگزیر تھیں، عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی معاشی بہتری اور اصلاحاتی اقدامات کو سراہا ہے، جبکہ ایف بی آر کو پہلی مرتبہ کاغذی نظام سے نکال کر ڈیجیٹل نظام میں منتقل کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم ورک کے بغیر یہ کامیابیاں ممکن نہیں تھیں، حکومت نے مالی نظم و ضبط بحال کیا، سرکاری مالیاتی نظام کو مضبوط بنایا اور حکومتی نظام کو وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل بنیادوں پر منتقل کیا۔






