لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کے احکامات پر لاہور ہائیکورٹ کی 150 سالہ تاریخی عمارت کی مرمت اور تزئین و آرائش کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کی تاریخی عمارت طویل عرصے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث اپنی خوبصورتی کھو چکی تھی۔ اس صورتحال پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سخت نوٹس لیتے ہوئے عمارت کی بحالی کے احکامات جاری کیے، جس کے بعد مرمت کا عملی آغاز کر دیا گیا۔
ٹوٹ پھوٹ کا شکار عمارت کے مختلف حصوں کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ بعض عدالتوں کی چھتوں سے پانی ٹپکنے کی شکایات تھیں جنہیں دور کیا جا رہا ہے، جبکہ عدالت عالیہ کے احاطے میں موجود سڑکیں بھی عرصہ دراز سے خراب حالت میں تھیں، جن کی تعمیر و مرمت کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کی تاریخی عمارت کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کے لیے ماہر اور قابلِ آرکیٹیکٹس کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں تاکہ عمارت کی تاریخی شناخت برقرار رکھی جا سکے۔
لاہور ہائیکورٹ بار کے سیکرٹری فرخ الیاس چیمہ نے تاریخی عمارت کی بحالی پر چیف جسٹس عالیہ نیلم کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ وکلا کا دیرینہ مطالبہ تھا، جسے چیف جسٹس نے پورا کر کے عدلیہ اور وکلا برادری کے دل جیت لیے ہیں۔
قانونی ماہر نصیر کمبوہ کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کی عمارت طویل عرصے سے خستہ حالی کا شکار تھی، مگر کسی نے اس جانب توجہ نہیں دی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم کی جانب سے اس معاملے کا سخت نوٹس لینا اور تاریخی عمارت کو اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم دینا قابلِ ستائش اقدام ہے۔






