پاکستان کا بھارتی وزیر خارجہ کے بیان پر سخت ردعمل

0
95

پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے تمام جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔

دفتر خارجہ کے مطابق بھارت اگر اس معاہدے کی یکطرفہ خلاف ورزی کرتا ہے تو اس سے نہ صرف خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچے گا بلکہ بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔ پاکستان پہلے ہی متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اس کے لیے سرخ لکیر کے مترادف ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ نے مدراس میں ایک تقریب کے دوران پاکستان کا نام لیے بغیر الزام عائد کیا تھا کہ اگر کوئی ملک مسلسل دہشت گردی میں ملوث رہے تو دفاع کا حق استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ خطے میں دہشت گردی اور عدم استحکام کو فروغ دینے میں بھارت کا کردار دنیا کے سامنے واضح ہے۔ انہوں نے مارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے خلاف ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق سرحد پار قتل، پراکسی گروہوں کے ذریعے تخریب کاری اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی خفیہ مدد جیسے واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں، جو بھارت میں موجود انتہا پسند نظریے اور اس کے پرتشدد رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عناصر پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جنہیں بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے۔

پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی اور جابرانہ فوجی قبضے کی بھی شدید مذمت کی اور واضح کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا تاکہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے حقِ خود ارادیت کا حصول ممکن بنا سکیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا