لامکاں میں رب سے ملنے جب چلے خیر البشر ﷺ

0
516

ہ ذات، پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصے میں اپنے بندے کو مسجد حرام سے (اس) مسجد اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنادیا ہے تاکہ ہم اس (بندۂ کاملؐ) کو اپنی نشانیاں دکھائیں۔ بے شک! وہی خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘
(بنی اسرائیل، الاسراء)

معجزات نبوت کا لازمہ ہیں۔ تمام انبیائے کرامؑ کو انفرادی طور پر مختلف نوع کے معجزات دیے گئے۔ یہ مظاہر خلافِ عادت تو ہوتے مگر مظاہر ارضی یا انسانی کیفیات کی تبدیلی سے متعلق ہوتے، مثال کے طور پر چشموں کا جاری ہونا، دریاؤں کا راستہ دے دینا، عصا کا سانپ بن کر دیگر سانپوں کو نگل لینا، کوڑھ کے مریض کا تن درست ہونا، مُردوں کا جی اٹھنا اور پہاڑی سے اونٹنی کا برآمد ہونا۔

یہ تمام معجزات قافلۂ نبوت کے اعلیٰ سواروں کو دیے جاتے رہے، مگر اس عظیم الشان قافلے کے بے مثل سالار اعظم نبی کریم ﷺ کو بہت سارے معجزات کے علاوہ جو دو محیرالعقل معجزات دیے گئے وہ فضا و آسمان کا تصرف ہے۔

ان میں سے ایک کو ’’واقعہ شق القمر‘‘ اور دوسرے کو ’’معراج النبیؐ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انگلی کے ایک اشارے سے چاند کو ٹکڑوں میں بانٹ دینا، رب کائنات کا حکم اور اس کے حبیب ﷺ کی شان کے سوا کیا ہے؟ ایمان نہ لانے والے تو تب بھی نہ لائے جب اپنی آنکھوں سے چاند کو ٹکڑوں میں بٹ کر مختلف سمتوں میں سفر کرتے دیکھا۔ ان ٹکڑوں کا پھر سے ملنا دیکھا، قافلوں کی گواہیاں سنیں مگر جادو، جادو پکارتے رہے۔

دیکھے ہوئے معجزے پر جب یہ ردعمل تھا تو ان دیکھے پر اعتبار ناممکن تھا۔ جنھیں ساری عمر صادق و امین پکارتے رہے۔ بدترین دشمنی اور بغض و عداوت رکھنے کے باوجود اپنی امانتیں انھی کے سپرد کرتے رہے، جب وہی صادق و امین ﷺ اپنے سفر معراج کی روداد، اﷲ کی دکھائی ہوئی نشانیوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو جھوٹ، جھوٹ (نعوذباﷲ) کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔

عدم سے وجود پانے، ناچیز سے چیز ہونے والے ان گونگے، بہرے انسان نما جانوروں کو اپنی ذات میں، اپنی تخلیق میں کبھی اپنے رب کی قدرت نظر آئی ہوتی تو رب کے حبیبؐ سے ان کے اس سفر کے دورانیے، ان کی سواری کی رفتار کی بابت تمسخر نہ کرتے۔

مادیت پرستی کے پرچارک، تسکین نفسانی کے دل دادہ بس جسم کی کثافتوں کی دلدل میں ہی دبے رہے۔ انھوں نے کبھی روحانی لطافتوں کو، اپنے لطیف و خبیر رب کی قدرت کو اپنی ہستی کے ذرے ذرے میں پرکھا ہی کب تھا۔

وہ محدود عقل رکھنے والے، مچھر کے پر سے حقیر دنیا کے طلب گار، لامحدود قدرت، سماعت و بصارت رکھنے والے رب کی نشانیوں، اس کے احکام کو جھٹلانے والے اور اس کے حبیب ﷺ کو ایذا دینے والے یقیناً بے پروا تھے، اپنے دردناک انجام سے، دوزخ کا ایندھن بننے سے۔

سرکشوں، غافلوں کا کام محض جھٹلانا ہے۔ حق سے منہ موڑنا ہے کیوں کہ ان کے دل مُہرزدہ اور عقل قفل زدہ ہے۔ میر حجاز ﷺ کو ایذا دینے میں سبقت لے جانے والے آپؐ کی نبوت و معجزات کو جھٹلاتے تھے۔

آپؐ کے سفر معراج، نور ازل و ابد کی تجلیات کی جلوہ بینی کو جھٹلاتے تھے، مگر رب کائنات کو اپنے حبیب ﷺ کی افسردگی کہاں گوارا تھی۔

جب جب دشمنوں نے چراغ نبوتؐ کو اپنی سرکش فطرت کی مبغوض لہروں کی زد پہ رکھنا چاہا تو اﷲ نے تسلی و تسکین قلب کے لیے انعام و اکرام کی بشارتوں کے ذریعے اپنی رحمتوں کے حصار میں لے کر چراغ نبویؐ کی لو کو یک سر بچالیا۔

تکذیبِ معراج کے وقت بھی رب نے اپنے حبیب ﷺ کو تنہا نہ چھوڑا۔ اپنی آیات کے ذریعے معراج نبی کی تصدیق کی۔ اپنے حبیب ﷺ کی حق پرستی و حق گوئی کا اعلان کیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا