ویکسین کی مقامی تیاری میں پیشرفت ہو رہی ہے، مصطفی کمال

0
839

اسلامباد:وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفی کمال نے کہا کہ صحت کے شعبے میں ایک اہم اور تاریخی اقدام جس کے تحت پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری کے لئے سعودی عرب اور انڈونیشیا کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری پر عملی پیشرفت ہو رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے بتایا کہ وزارتِ صحت نے گزشتہ سات ماہ کے دوران پاکستان کے ویکسینیشن نظام، درپیش چیلنجز اور مستقبل کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس بنیاد پر مقامی ویکسین تیاری کی جامع حکمتِ عملی مرتب کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت 13 بیماریوں سے بچا کے لئے ویکسین قومی روٹین امیونائزیشن پروگرام کے تحت مفت فراہم کی جا رہی ہیں جن میں حال ہی میں سروائیکل کینسر سے بچا کے لئے ایچ پی وی ویکسین بھی شامل کی گئی ہے، یہ ویکسین حکومتِ پاکستان کی جانب سے گھر کی دہلیز تک فراہم کی جاتی ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان اس وقت سالانہ 400 سے 500 ملین امریکی ڈالر مالیت کی ویکسین درÈمد کرتا ہے جس میں عالمی ادارہ گاوی، ڈبلیو ایچ او، یونیسف اور گیٹس فانڈیشن کی معاونت شامل ہے۔

موجودہ مرحلے میں پاکستان 51 فیصد لاگت خود برداشت کرتا ہے تاہم 2031 تک یہ عالمی معاونت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی اور پاکستان کو ویکسین کی مکمل لاگت خود برداشت کرنا ہو گی جس کا تخمینہ سالانہ 1.2 بلین امریکی ڈالر ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت متبادل انتظامات نہ کئے گئے تو ویکسینیشن پروگرام متاثر ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں بیماریوں میں اضافہ اور صحت کے نظام پر ناقابلِ برداشت دبا پیدا ہو جائے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا