متحدہ عرب امارات نے اصولی طور پر پاکستان کے 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں دو ماہ کی توسیع پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس رقم کو 17 اپریل 2026 تک رول اوور کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، جس سے پاکستان کو عارضی مالی سہارا حاصل ہوگا۔
ایک اعلیٰ عہدیدار کی تصدیق کے مطابق اماراتی حکام نے مختصر مدت کے لیے اس ڈپازٹ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ توسیع 6.5 فیصد شرح سود پر دی گئی ہے، جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے باقاعدہ منظوری جلد متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے رواں ہفتے اعلیٰ اماراتی حکام سے رابطہ کر کے انہیں پاکستان کی موجودہ مالی صورتحال سے آگاہ کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کے مطابق اسحاق ڈار اس معاملے کو خود دیکھ رہے ہیں اور اماراتی حکام کے ساتھ مشاورت کے ذریعے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک ماہ کی سابقہ توسیع ختم ہونے میں چند روز باقی تھے۔ یاد رہے کہ جنوری میں بھی متحدہ عرب امارات نے میعاد مکمل ہونے پر ایک ماہ کی توسیع دی تھی، جبکہ ایک ارب ڈالر کی تیسری قسط جولائی 2026 میں واجب الادا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تیسرے جائزہ مذاکرات کے تناظر میں امارات کا یہ اقدام اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں اماراتی حکام کو آگاہ کیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات مکمل ہونے کے بعد اسلام آباد طویل مدتی رول اوور کے لیے دوبارہ رابطہ کرے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ رول اوور کی مدت کا تعین قرض فراہم کرنے والے ملک کا اختیار ہوتا ہے اور نائب وزیر اعظم کی کوششوں سے یہ توسیع ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزارت خزانہ کے حکام کی جانب سے قائمہ کمیٹی خزانہ میں دیے گئے بیانات کے پس منظر سے وہ آگاہ نہیں ہیں۔
مزید برآں وزیر خزانہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے بیرونی مالیاتی پروفائل میں کسی قسم کا خلا موجود نہیں اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔





