برطانیہ میں کئی وزرائے اعظم آئے اور گئے مگر لیری ڈاؤننگ اسٹریٹ کا سب سے تجربہ کار اور مقبول کردار آج بھی وہی ہے۔ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کا یہ مشہور بلا گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے برطانوی سیاست کا خاموش مگر مستقل حصہ چلا آ رہا ہے۔
Larry کی کہانی 2011 میں شروع ہوئی جب اس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے دور میں ڈاؤننگ اسٹریٹ کو چوہوں سے نمٹنے کے لیے ایک قابلِ اعتماد شکاری کی ضرورت پیش آئی۔ لندن کے ایک شیلٹر سے گود لیا گیا سفید اور بھورے رنگ کا یہ بلا جلد ہی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
سرکاری بائیوگرافی کے مطابق لیری کا عہدہ “چیف ماؤزر ٹو دی کیبنٹ آفس” ہے۔ اس کے فرائض میں چوہے پکڑنے کے ساتھ مہمانوں کا استقبال، سیکیورٹی کا جائزہ اور قدیم فرنیچر کی “کوالٹی چیکنگ” بھی شامل ہے۔
دنیا بدلتی رہی لیکن لیری کی موجودگی برقرار رہی۔ ڈیوڈ کیمرون سے لے کر کیئر سٹارمر تک چھ وزرائے اعظم آ چکے ہیں، جن میں لز ٹرس اور رشی سونک بھی شامل ہیں، مگر لیری اپنی جگہ قائم ہے۔ بریگزٹ، کووڈ-19 وبا اور سیاسی ہنگاموں کے دوران بھی وہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے دروازے پر پُرسکون انداز میں بیٹھا دکھائی دیتا رہا۔
لیری کئی مواقع پر عالمی رہنماؤں کی توجہ بھی حاصل کر چکا ہے۔ وولودیمیر زیلنسکی کے دورے سمیت متعدد اہم مواقع پر کیمرے اکثر اس کی جانب مڑ جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی لیری کی مقبولیت کم نہیں۔ اس کا ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ @Number10cat لاکھوں فالوورز رکھتا ہے جہاں اس کی روزمرہ زندگی اور سیاست پر ہلکے پھلکے طنزیہ تبصرے شیئر کیے جاتے ہیں۔
امریکا میں Socks اور بیلجیم کے وزیرِاعظم کی بلی میکسمس بھی مشہور رہ چکی ہیں، مگر 15 برس بعد بھی لیری کی مقبولیت اور وقار برقرار ہے۔ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کا یہ “سیاسی بزرگ” آج بھی برطانوی سیاست کا مستقل اور دلکش حصہ سمجھا جاتا ہے۔





