امریکا کے قدامت پسند تجزیہ کار اور نامور کالم نگار ٹکر کارلسن نے ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں ایک چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے جس نے سفارتی اور دفاعی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ٹکر کارلسن نے کہا کہ سعودی عرب اور قطر نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ وہ ان ممالک میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے تاکہ خلیجی ریاستوں میں مزید بے چینی پھیلائی جا سکے اور خطے میں جاری کشیدگی کو وسعت دی جا سکے۔
ٹکر کارلسن کے مطابق اسرائیل کی حکمت عملی صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ وہ خلیجی ممالک کو بھی اپنے اسٹریٹجک مقاصد کے لیے دباؤ میں لانا چاہتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان اور کویت جیسے ممالک کو بھی اس وسیع تر منصوبے کا حصہ بنایا جا رہا ہے اور اس ضمن میں کچھ حد تک پیش رفت بھی ہو چکی ہے۔
تاہم اب تک سعودی عرب، قطر یا اسرائیل کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ مزید یہ کہ کسی بڑے بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے بھی اس حوالے سے کوئی مستند اور آزادانہ تصدیق شدہ رپورٹ شائع نہیں کی ہے، جس کے باعث یہ دعویٰ فی الحال غیر مصدقہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دفاعی اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں پہلے ہی ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، ایسے میں اس نوعیت کے دعوے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اب متعلقہ ممالک کے سرکاری مؤقف پر مرکوز ہیں تاکہ حقیقت حال واضح ہو سکے۔






