ایران کشیدگی، وزیراعظم کے ملائیشیا ، انڈویشیا کے سربراہان سے رابطے

0
519

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کے عالمی رہنماؤں سے رابطے جاری ہیں۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے جمعرات کو ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔

ملائیشیا کے وزیراعظم سے گفتگو کے دوران شہباز شریف نے ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں اور برادر خلیجی ممالک پر بعد میں ہونے والے حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام یقینی بنایا جانا چاہیے۔ وزیراعظم نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں کمی لائیں اور اپنے اختلافات کو سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن کی بحالی اور حالات کو معمول پر لانا انتہائی ضروری ہے، تاہم یہ مقصد تمام فریقین کی جانب سے زیادہ سے زیادہ تحمل کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ مؤقف کو ہم آہنگ رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ملائیشین ہم منصب کو افغانستان سے متعلق حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا اور دہشت گرد عناصر کے خلاف پاکستان کی جاری کوششوں کے بارے میں بتایا۔

بعد ازاں وزیراعظم نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے ایران پر اسرائیلی حملوں اور برادر خلیجی ممالک پر بعد میں ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی اور بحران کے تناظر میں خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے سفارتی رابطوں سے آگاہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تمام فریقین کو زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور مسائل کو تعمیری بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جانے چاہییں۔

گفتگو کے دوران وزیراعظم نے انڈونیشیا کے صدر کو افغانستان سے متعلق حالیہ صورتحال پر بھی بریفنگ دی جبکہ دونوں رہنماؤں نے آئندہ دنوں میں قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا