سانحہ گل پلازہ: کے ایم سی نے جوڈیشل کمیشن میں ذمہ داری دیگر اداروں پر ڈال دی

0
540

کراچی: سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن میں میونسپل کمشنر کے ایم سی نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس واقعے میں کے ایم سی کی کوئی انتظامی غفلت شامل نہیں۔

میونسپل کمشنر نے کمیشن کے سوالنامے کا تحریری جواب جمع کرواتے ہوئے کہا کہ کے ایم سی کی ذمہ داری صرف مرکزی شاہراہ تک محدود ہے جبکہ گل پلازہ کے اطراف کی سڑکوں سے تجاوزات ہٹانا ٹی ایم سی صدر کی ذمہ داری ہے۔

جواب میں مزید کہا گیا کہ فائر آڈٹ کی ذمہ داری سول ڈیفنس ڈائریکٹوریٹ جبکہ سیفٹی آڈٹ ایمرجنسی ریسکیو سروس ایکٹ 2023 کے تحت ریسکیو 1122 کے دائرہ کار میں آتا ہے۔

میونسپل کمشنر کے مطابق سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت فائر فائٹنگ کے ایم سی کی ذمہ داری تھی تاہم 2023 کے ایکٹ کے بعد فائر فائٹنگ اور ریسکیو کی ذمہ داریاں ریسکیو 1122 کو منتقل کر دی گئی ہیں۔ اس حوالے سے 11 دسمبر 2025 کو کونسل کے اجلاس میں منتقلی کے عمل کی منظوری دی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ کے ایم سی نے رضاکارانہ طور پر 200 عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا تھا اور اس کی رپورٹ 2024 میں کمشنر کو پیش کی گئی تھی، تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی قابلِ ذکر اقدامات نہیں کیے گئے۔

میونسپل کمشنر کا کہنا تھا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ضلعی کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔ پی ڈی ایم اے کی گائیڈ لائنز کے مطابق شہری علاقوں میں لگنے والی آگ کو ڈیزاسٹر تصور کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک کا دباؤ گرین لائن تعمیراتی منصوبے کے باعث تھا، جبکہ آتشزدگی کی اطلاع ملتے ہی کرین، ایکسکویٹر، جیک ہیمر اور دیگر بھاری مشینری موقع پر تعینات کر دی گئی تھی۔ فائر بریگیڈ کے اہلکاروں کے ساتھ سٹی وارڈنز اور دیگر میونسپل سروسز کے عملے نے بھی کارروائی میں حصہ لیا۔

دریں اثنا جوڈیشل کمیشن نے فائر اینڈ ریسکیو ہیڈ کوارٹر کے اسٹیشن افسر محمد توفیق کو سمن جاری کرتے ہوئے 10 مارچ کو طلب کر لیا ہے اور ان سے متعلقہ ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

اس کے علاوہ سول ڈیفنس کے ٹیکنیکل انسٹرکٹر مرزا مرسلین کو بھی 12 اپریل کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا