آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی چین، جاپان اور جنوبی کوریا سے مدد کی اپیل

0
406

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے سے متعلق بیان پر مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے کے لیے دیگر ممالک کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں اب تک سات ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں زیادہ تر فوجی اور تجارتی نوعیت کے مقامات شامل تھے۔ ان کے بقول ان کارروائیوں سے ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ اتحادی ممالک کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک بھی آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی تیل کی ضروریات کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ آبنائے ہرمز سے آتا ہے، جبکہ دیگر ممالک اس آبی گزرگاہ پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے ان تمام جہازوں کو تباہ کر دیا ہے جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت رکھتے تھے، تاہم اب تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ آبنائے ہرمز میں واقعی بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھاتے ہیں انہیں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اپنے بحری جہاز بھی بھیجنے چاہئیں۔ انہوں نے خاص طور پر چین، جاپان اور جنوبی کوریا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک اپنی تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے درآمد کرتے ہیں، اس لیے انہیں اس آبی گزرگاہ کے تحفظ میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران میں میزائل اور ڈرون بنانے کے تین مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد ایران کی میزائل اور ڈرون بنانے کی صلاحیت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز کو کھولنے میں پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کے خارک آئل آئی لینڈ پر تیل کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 100 سے زائد ایرانی جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق دو ہفتے پہلے ایران ایک مضبوط ملک تھا لیکن اب وہ کمزور ہو چکا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کا دفاع کرتا ہے، تاہم کئی مواقع پر اتحادی ممالک امریکا کی اسی طرح مدد نہیں کرتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ماضی میں کئی عالمی واقعات کے بارے میں پہلے ہی خبردار کر چکے تھے، جن میں ایران کی جوہری تنصیبات سے متعلق خدشات بھی شامل تھے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا