اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے 3.2 کھرب روپے کی ہاؤسنگ فنانس اسکیم سے متعلق سامنے آنے والے آئینی تحفظات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ اسکیم کا تفصیلی جائزہ لے کر یہ واضح کیا جائے کہ آیا یہ منصوبہ سود کے خاتمے سے متعلق آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔
رپورٹس میں نشاندہی کی گئی تھی کہ ’’اپنا گھر پروگرام‘‘ کی موجودہ ساخت، جس میں پانچ سال تک قرضوں کی فراہمی اور 20 سالہ ادائیگی کی مدت شامل ہے، یکم جنوری 2028 کے بعد بھی سود پر مبنی قرضوں کے تسلسل کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ آئین کے تحت اس تاریخ تک سود سے پاک نظام کی طرف منتقلی لازمی قرار دی گئی ہے۔
اس اسکیم کے تحت ایک کروڑ روپے تک کے قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں، جن پر ابتدائی 10 سال کیلئے 5 فیصد مقررہ شرح رکھی گئی ہے، جس کے بعد مارکیٹ کے مطابق شرح لاگو ہوگی۔ حکومت نے پہلے مرحلے میں 50 ہزار گھروں کی فنانسنگ کیلئے 321 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس اسکیم کو شریعت کے مطابق متبادل مالیاتی ماڈل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے یا اس کیلئے ازسرنو ڈیزائن کی ضرورت ہوگی۔
بتایا گیا ہے کہ اس عمل میں مالیاتی ریگولیٹرز، بینکاری ماہرین اور قانونی حکام سے مشاورت جاری ہے، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور معاشی ٹیم کے دیگر ارکان بھی اس جائزے میں شامل ہیں۔
حکام کے مطابق اس جائزے کے نتائج نہ صرف اس اسکیم بلکہ دیگر حکومتی فنانسنگ پروگرامز پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، خاص طور پر وہ منصوبے جو روایتی بینکاری نظام پر انحصار کرتے ہیں، کیونکہ پاکستان سود سے پاک مالیاتی نظام کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔






