اسلام آباد میں انسانی اعضا کی مبینہ خرید و فروخت کا نیٹ ورک بے نقاب، 5 گرفتار

0
320

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور پی ہوٹا کی مشترکہ ٹیم نے سیکٹر ایف-7 میں کارروائی کرتے ہوئے انسانی اعضا کی مبینہ خرید و فروخت میں ملوث غیر ملکی باشندوں سمیت 5 افراد کو گرفتار کر لیا۔

ایف آئی اے کے مطابق چھاپے کے دوران بڑی مقدار میں انسانی پلاسنٹا برآمد کیا گیا، جس میں تازہ، خشک اور پراسیس شدہ مواد شامل ہے۔ برآمد شدہ ذخیرہ قبضے میں لے کر مزید جانچ کے لیے محفوظ کر لیا گیا ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان مختلف اسپتالوں سے انسانی پلاسنٹا حاصل کرتے تھے، جو پشاور، راولپنڈی اور لاہور کے طبی مراکز سے جمع کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں اسے بھیڑ کے اعضا ظاہر کرکے بیرون ملک بھجوایا جاتا تھا۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پراسیس شدہ پلاسنٹا ویتنام برآمد کیا جاتا تھا، جہاں اسے ادویات اور دیگر طبی مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیے جانے کا شبہ ہے۔

ادارے کے مطابق ملزمان نے مقامی سہولت کاروں کی مدد سے ایک منظم نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔ برآمد شدہ نمونے طبی تجزیے کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کر دیے گئے ہیں، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے دیگر ممکنہ کرداروں اور نیٹ ورک کے بین الاقوامی روابط کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا