تحریر و تحقیق: مسعود چوہدری
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں پہلی پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے جو بات کہی، وہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک جانب ریاستِ پاکستان کی موجودہ ساخت پر ایک دردمندانہ تنقید ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان کی طاقتور اشرافیہ کو یہ باور کروانے کی مخلصانہ کوشش ہے کہ اگر قبلہ درست نہ کیا گیا تو ناقابل بیان تباہی دروازہ پر دستک دے رہی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ستر برس سے چلایا جانے والا نظام اب مزید نہیں چل سکتا، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ایک دہائی بعد بھی ہم انہی مسائل پر بیٹھے بحث کر رہے ہوں گے، دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے جسے پالیسی ساز حلقے برسوں سے نظرانداز کرتے آئے ہیں۔ نئی انتظامی اکائیوں یا صوبوں کے قیام کی تجویز کو نہ لسانی عینک سے دیکھا جانا چاہیے، نہ نسلی، بلکہ اسے ایک ایسی آئینی و انتظامی اصلاح کے طور پر پرکھا جانا چاہیے جو اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، بہتر گورننس، مضبوط جمہوریت اور متوازن علاقائی ترقی کو یقینی بنا سکے۔ انتظامی طاقت کا ارتکاز ایک ایسا مسئلہ ہے جو ایک مسلسل استحصالی عمل کو جنم دے چکا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ محسن نقوی کے بیان سے پہلے تک اس جانب دیکھنے کو کوئی تیار نہیں تھا۔
اگر ہم گزشتہ چند برسوں کی معاشی کارکردگی کا معروضی جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ریاست کو دانستہ طور پر تباہی کا شکار کرنے کے لیے نبرد آزما قوتوں کی کارگزاریوں کو جزوی کامیابی کیوں میسر آئ اور حکومت کی معاشی رٹ کمزور کیوں ہوئی۔ اکیس ارب ڈالر کے لگ بھگ بیرونی قرض کی واجب الادا رقم رکھنے والی ریاست کے لیے مالی سال 2025-26 میں 3.7 فیصد شرح نمو کیا مطلوبہ اور قابلِ عمل نتائج مہیا کر سکتی ہے؟ اگرچہ کارکردگی کے دعویدار یہ کہتے ہیں کہ اس سال ماضی کی بنسبت مہنگائی میں کمی آئی، جاری کھاتہ سرپلس میں گیا اور مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری دیکھی گئی، لیکن یہ سب بیانات حکومتی عینک لگا کر تسلیم بھی کر لیے جائیں تو یہ جزوی استحکام کے ہی مظاہر ہو سکتے ہیں، پائیدار بحالی کے ہرگز نہیں۔
صنعتی شعبہ تاحال دباؤ کا شکار ہے، برآمدات میں تنوع نہیں آیا، نجی سرمایہ کاری کمزور ہے، اور آنے والی دہائی میں تین کروڑ نئی ملازمتوں کی ضرورت پوری کرنے کی صلاحیت دور دور تک نظر نہیں آتی۔ کرپشن، بد انتظامی، اور فیصلہ سازی کے فقدان کے جنات کے بارے لب کشائ ایک جانب۔ کیا کوئ بھی حکومتی جادوگر اس سوال پر روشنی ڈال سکتا ہے کہ کیا کوئی بھی معیشت بہت بڑی تعداد میں بے روزگار نوجوانوں کا بوجھ اٹھا کر معاشرتی اجتماعی مایوسی و بداعتمادی کے جنات کو قابو میں رکھ سکتی ہے؟ سوال یہ ہے کہ آخر پالیسیاں تو بنتی ہیں مگر عمل درآمد میں ناکام کیوں رہتی ہیں؟ اس کا جواب یقیناً متعدد عوامل میں پوشیدہ ہے، مگر ایک بڑی وجہ انتظامی ڈھانچے کے حجم اور عدم توازن میں بھی مضمر ہے۔
قومی تعرفہ پالیسی (نیشنل ٹیرف پالیسی)، سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز، برآمدی سہولت اسکیمیں، اور پی ایس ڈی پی کے متعدد منصوبے، سب اسی وجہ سے تاخیر اور ناکامی کا شکار ہوئے کہ فیصلہ سازی مرکز میں الجھی رہی جبکہ عمل درآمد کی ذمہ داری دور دراز، وسیع اور آبادی کے لحاظ سے غیرمتوازن صوبائی اکائیوں پر ڈال دی گئی۔ بین الوزارتی ہم آہنگی کا فقدان، کلیدی عہدوں پر متعین افسران کے بار بار تبادلے، ادارہ جاتی حافظے کا نقصان، اور ریگولیٹری اداروں کی محدود صلاحیت، یہ سب اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ موجودہ صوبائی حدود اب انتظامی کارکردگی کی ضامن نہیں رہیں۔ جب کسی صوبے کی آبادی کروڑوں میں ہو اور وسائل کا تناسب دوسرے صوبوں سے کہیں مختلف ہو، تو مرکزی و صوبائی حکومتوں کے لیے یکساں معیار پر ٹیکس وصولی، سبسڈی کی تقسیم، توانائی کی فراہمی، اور قانون کے یکساں نفاذ کو ممکن بنانا محض ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ راقم محسن نقوی کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ نئی انتظامی اکائیوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بنیادی شرط جوڑنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ نئی اکائیاں محض سیاسی مطالبات یا لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ رقبے، آبادی اور وسائل کی منصفانہ اور متناسب تقسیم کے اصول پر تشکیل دی جائیں۔ اگر ہم دیکھیں تو پاکستان کے موجودہ صوبے آبادی، رقبے اور محصولات کی وصولی کے اعتبار سے سخت غیرمتوازن ہیں، اور یہی عدم توازن مرکزی وسائل کی تقسیم میں سیاسی چپقلش، ترقیاتی فنڈز کی غیرمنصفانہ تقسیم، اور انتظامی نگرانی کے فقدان کو جنم دیتا ہے۔ متناسب اکائیاں بنانے سے ہر یونٹ کی آبادی، محصولات جمع کرنے کی صلاحیت اور ترقیاتی ضروریات ایک دوسرے سے قریب تر ہوں گی، جس سے وفاقی مالیاتی ایوارڈ اور این ایف سی جیسے میکانزم زیادہ منصفانہ بن سکیں گے۔
اس تناظر میں چند مثبت انتظامی اصلاحات تجویز کی جا سکتی ہیں۔ اول، نئی اکائیوں کی حدبندی ایک آزاد اور غیرسیاسی حدبندی کمیشن کے ذریعے کی جائے، جو درست مردم شماری، شفاف و کرپشن سے پاک محصولاتی صلاحیت، اور علاقائی و جغرافیائی رسائی جیسے معروضی پیمانوں پر مبنی ہو، نہ کہ محض سیاسی جماعتوں کے مطالبات پر۔ دوم، ایف بی آر، نیپرا، اوگرا اور ایس ای سی پی جیسے ریگولیٹری اداروں کی علاقائی شاخوں کو مکمل انتظامی و مالی خودمختاری دی جائے تاکہ نفاذ کا معیار ہر یونٹ میں یکساں رہے۔ سوم، پی ایس ڈی پی کے منصوبوں کی نگرانی کے لیے ہر انتظامی اکائی میں شفاف ڈیجیٹل ٹریکنگ نظام لازمی قرار دیا جائے تاکہ لاگت میں اضافے اور تاخیر جیسی خرابیوں کا بروقت سدباب ہو سکے۔ چہارم، افسران کے تقرر و تبادلے کے لیے کم از کم اور زیادہ سے زیادہ مدتِ تقرری کا منصفانہ و شفاف اصول وضع کیا جائے، تاکہ ایک طرف ادارہ جاتی تسلسل برقرار رہے اور دوسری طرف طاقت کا توازن بھی بگڑنے نہ پائے۔ پنجم، صنعتی و تجارتی پالیسیوں میں تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے، حکومتوں کی تبدیلی سے قطع نظر، ایک مستقل قومی صنعتی حکمتِ عملی کونسل تشکیل دی جائے۔
یقیناً اس تجویز پر مخالفین کے تحفظات بھی نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ کچھ حلقے سمجھتے ہیں کہ نئی اکائیوں کے قیام سے انتظامی اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہوگا، نئی بیوروکریسی جنم لے گی، اور قومی یکجہتی کو نسلی و لسانی بنیادوں پر خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، خصوصاً ان جماعتوں کی جانب سے جو اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان جیسی جماعتوں کا سندھ میں نئے صوبوں کا مطالبہ، اور خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے ہزارہ صوبے کے حق میں تین بار منظور کی گئی قراردادیں، اس بحث کی سیاسی حساسیت کو ظاہر کرتی ہیں، جبکہ پنجاب کی تقسیم کے حق اور مخالفت میں دیے جانے والے سیاسی بیانات اس حساسیت میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ یہ عمل تمام سیاسی جماعتوں کے وسیع تر اتفاقِ رائے، آئینی طریقہ کار اور پارلیمانی بحث کے ذریعے مکمل ہو، نہ کہ کسی اچانک انتظامی حکم نامے کے ذریعے۔ یقیناً یہ آسان کام نہیں، کیونکہ یہ اکلوتا معاملہ پاکستان کے سیاسی طور پر طاقتور طبقے کے زمینی مفادات کو جڑ سے ہلانے کے لیے کافی تصور کیا جا رہا ہے۔
گو کہ اب جبکہ بات چل ہی نکلی ہے تو یہ تذکرہ بھی ضروری ہے کہ طاقت کی راہداریوں میں ایک سوچ یہ بھی گردش کر رہی ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور کے ون یونٹ فارمولے سے رہنمائی لیتے ہوئے، ایک مضبوط وفاق کے تحت متعدد متناسب انتظامی یونٹس تشکیل دیے جائیں۔ نظامِ حکومت کے خدوخال کی تبدیلی میں یہ اب تک کا سب سے بڑا اور پُراثر فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے، تاہم تاریخ گواہ ہے کہ 1955 کا ون یونٹ تجربہ متعدد طاقتور حلقوں میں شدید بے چینی اور سیاسی مزاحمت کا باعث بنا تھا اور بالآخر 1970 میں اسے منسوخ کردیا گیا۔ آج کے زمینی حقائق اور 18 ویں ترمیم کی موجودگی میں تجربہ سازوں کے پاس من چاہے متناسب بیانیہ کا فقدان ہے، اس لیے اگر ایسی کوئی تجویز زیرِ غور آتی ہے تو اسے سابقہ تجربے کی تاریخی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، اور صوبائی خودمختاری کے اصول سے متصادم ہوئے بغیر، نہایت احتیاط اور وسیع مشاورت کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔
بہرحال، اصل نکتہ یہی ہے کہ پاکستان کا بحران پالیسیوں کی کمی کا نہیں بلکہ عمل درآمد، نفاذ اور احتساب کی کمزوری کا ہے، اور یہ کمزوری بڑی حد تک اس فرسودہ انتظامی ڈھانچے سے جڑی ہے جو ستر برس پرانی حقیقتوں پر استوار ہے۔ محسن نقوی کا یہ مطالبہ کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک میز پر بیٹھ کر اس مسئلے کو عوام کے سامنے لے جائیں، دراصل ریاست کی معاشی و انتظامی رٹ کی بحالی کی طرف ایک درست قدم ہے۔ اگر رقبے، آبادی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے اصول پر نئی اکائیاں تشکیل دی جائیں، اور ساتھ ہی ادارہ جاتی اصلاحات کو یقینی بنایا جائے، کرپشن اور بدانتظامی کا تدارک کیا جائے، تو یہ اقدام محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ پاکستان کی طویل المدتی معاشی خودمختاری، متوازن ترقی اور عوامی اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔





