عدالتی حکم، کنٹینرز اور ادویات کا بحران

0
1052

فیصل تارڑ

اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے چند روز پہلے واضح حکم دیا کہ سیاسی احتجاج کی وجہ سے دارالحکومت میں شہریوں کے بنیادی حقوق معطل نہیں کیے جا سکتے۔ عدالت نے کہا کہ کوئی جماعت عوامی مقامات بند نہیں کر سکتی، اہم شاہراہیں کھلی رہنی چاہئیں اور ہسپتالوں تک رسائی میں رکاوٹ نہیں ڈالی جا سکتی۔ یہ حکم بظاہر ایک سیاسی احتجاج کے تناظر میں سامنے آیا، لیکن اس کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ دارالحکومت میں رہنے والے ہر شہری کے لیے آمدورفت، کاروبار، علاج معالجے اور روزمرہ زندگی کے حقوق بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔تاہم حالیہ دنوں میں صورتحال کچھ اور دکھائی دے رہی ہے۔ ریڈ زون، ڈی چوک اور 26 نمبر چونگی سمیت کئی مقامات پر کنٹینرز لگائے جا رہے ہیں۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ اقدامات 20 ستمبر کے جماعت اسلامی اور 27 ستمبر کے تحریک انصاف کے مجوزہ احتجاج کے پیش نظر امن و امان کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ کے لیے یقیناً یہ سوال اہم ہے کہ بڑے سیاسی اجتماعات کے دوران امن و امان کیسے برقرار رکھا جائے، حساس عمارتوں، سرکاری دفاتر اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے اور کسی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال کو کیسے روکا جائے۔لیکن مسئلہ اس وقت سنگین ہو جاتا ہے جب یہ بات سامنے آتی ہے کہ پولیس نے صرف خالی کنٹینرز نہیں بلکہ ادویات سے بھرے کنٹینرز بھی تحویل میں لے لیے ہیں۔

یہ کنٹینرز کراچی سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے ہسپتالوں اور میڈیکل اسٹورز کے لیے آ رہے تھے۔ مالکان کا کہنا ہے کہ انسولین سمیت اہم اور جان بچانے والی ادویات ان میں موجود ہیں۔ پولیس نے چابیاں، بلٹی، ڈرائیونگ لائسنس اور دیگر کاغذات بھی اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔یہ صورتحال محض ٹریفک یا انتظامی رکاوٹ کا معاملہ نہیں۔ ادویات ایک ایسا سامان ہیں جنہیں عام مال بردار اشیا کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔ خوراک، کپڑے، تعمیراتی سامان یا دوسری اشیا کچھ وقت رک سکتی ہیں، لیکن ایسی ادویات جن کا تعلق مریضوں کی روزانہ ضرورت سے ہو، ان کی ترسیل میں بلاوجہ تاخیر براہ راست انسانی زندگیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ انسولین، ہنگامی علاج کی ادویات، بعض انجیکشنز اور ہسپتالوں میں استعمال ہونے والی ضروری دوائیں وقت پر نہ پہنچیں تو مریضوں اور ان کے لواحقین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔گرمی میں کھڑے کنٹینرز میں ادویات خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر یہ ادویات بروقت ہسپتالوں تک نہیں پہنچیں تو مریض متاثر ہو سکتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ سڑک بند کرنے کے لیے ادویات والے کنٹینرز کیوں استعمال کیے جا رہے ہیں؟ نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اگر انتظامیہ کے پاس احتجاج کے راستے روکنے یا حساس مقامات کی حفاظت کے لیے متبادل انتظامات موجود ہیں تو پھر ایسی گاڑیوں کو کیوں روکا جائے جن میں مریضوں کے لیے ضروری ادویات موجود ہوں؟یہاں اصل سوال کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ انتظامی ترجیحات کا ہے۔ ریاست جب امن و امان قائم کرنے کے لیے اقدامات کرتی ہے تو اسے یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ اس کے کسی اقدام سے عام شہری کی زندگی پر غیر ضروری اثر نہ پڑے۔ اگر احتجاج کو روکنے کے لیے سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے تو بھی ایمبولینس، مریضوں، ڈاکٹرز، ہسپتالوں اور ضروری طبی سامان کے لیے راستے کی فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔عدالت نے راستے کھلے رکھنے کا حکم دیا تھا۔ مگر حکومت خود کنٹینرز لگا کر راستے بند کر رہی ہے تو شہریوں کی نقل و حرکت، کاروبار اور علاج معالجے پر اثر پڑے گا۔

یہی وہ بنیادی حقوق ہیں جن کے تحفظ کا حکم عدالت نے دیا تھا۔ اگر عدالتی حکم میں واضح طور پر شہریوں کی نقل و حرکت اور ہسپتالوں تک رسائی کے حق کو اہم قرار دیا گیا ہے تو انتظامیہ پر لازم ہے کہ حفاظتی انتظامات اسی دائرے میں کرے۔ عدالت کا حکم صرف سیاسی جماعتوں کے لیے نہیں بلکہ انتظامیہ کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر کوئی تاجر یا ٹرانسپورٹر قانونی طور پر ضروری سامان لے کر دارالحکومت آ رہا ہے تو کیا صرف اس وجہ سے اس کی گاڑی روک دی جائے کہ اس کا راستہ احتجاج کے ممکنہ مقام کے قریب سے گزرتا ہے؟ کیا اسے اس سامان کی نوعیت بتانے کے بعد بھی روکنا مناسب ہے؟ اور اگر اس میں جان بچانے والی ادویات موجود ہوں تو کیا انتظامیہ کے پاس انہیں فوری طور پر متعلقہ ہسپتال تک پہنچانے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہونا چاہیے؟یہی وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے جوابات عوام جاننا چاہتے ہیں۔کیا اب کوئی محب وطن تاجر عدالت کا رخ کرے گا؟یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ عام تاجر اور شہری ریاستی اداروں سے ٹکراؤ نہیں چاہتے۔

وہ اپنا کاروبار کرنا، ٹیکس دینا، سامان پہنچانا اور قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر ان کے مال کو راستے میں روک لیا جائے، دستاویزات تحویل میں لے لی جائیں اور انہیں یہ معلوم نہ ہو کہ ان کا سامان کب تک روکا جائے گا تو ان کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنے کے سوا کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟احتجاج کا حق آئین میں موجود ہے۔ امن و امان برقرار رکھنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ دونوں کا توازن ضروری ہے۔ کوئی سیاسی جماعت اپنے احتجاج کے حق کو استعمال کرتے ہوئے شہریوں کے بنیادی حقوق کو پامال نہیں کر سکتی، اسی طرح ریاست بھی امن و امان کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق کو غیر ضروری طور پر محدود نہیں کر سکتی۔ جمہوری معاشرے میں احتجاج اور انتظام دونوں آئین و قانون کے تابع ہوتے ہیں۔مسئلہ صرف یہ نہیں کہ سڑک پر کنٹینر کھڑا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک کنٹینر کے دوسری طرف کوئی مریض بھی ہو سکتا ہے۔ کسی گھر میں ایسا شخص ہو سکتا ہے جسے فوری دوا کی ضرورت ہو۔ کسی ہسپتال میں ایسا مریض ہو سکتا ہے جس کے علاج کے لیے وہی سامان درکار ہو جو روک دیا گیا ہے۔ اس لیے انتظامیہ کو ہر رکاوٹ کے انسانی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

اگر حفاظتی اقدامات میں ادویات جیسے حساس سامان کو روک لیا جائے تو یہ صرف سیاسی معاملہ نہیں رہتا، یہ صحت عامہ کا معاملہ بن جاتا ہے۔ یہاں حکومت کو محض یہ وضاحت نہیں دینی چاہیے کہ کنٹینرز کیوں روکے گئے بلکہ یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ ان میں موجود ادویات کی حفاظت کیسے کی جا رہی ہے، ان کے خراب ہونے کی صورت میں ذمہ داری کس پر ہوگی اور انہیں ہسپتالوں تک پہنچانے کے لیے کیا متبادل انتظام کیا گیا ہے۔اسی طرح متعلقہ تاجر اور ادویات کے سپلائرز بھی اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے قانونی کاروبار اور مریضوں کے لیے ضروری سامان کو بلاجواز روکا گیا ہے تو انہیں قانونی طریقہ اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔ عدالتیں اسی لیے موجود ہیں کہ انتظامی فیصلوں کا قانونی جائزہ لیا جا سکے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہو۔لیکن یہاں ایک وسیع تر سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر عدالتی حکم صرف چند نکات تک محدود کر کے پڑھا جائے اور اس کے بنیادی مقصد یعنی شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو نظر انداز کیا جائے تو پھر عدالتی احکامات کی عملی اہمیت کیا رہ جاتی ہے؟ عدالت اگر کہتی ہے کہ ہسپتالوں تک رسائی متاثر نہیں ہونی چاہیے تو اس حکم کا مقصد یہی ہے کہ انتظامی اقدامات کے دوران مریضوں اور طبی سہولیات کو ترجیح دی جائے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اگر اپنے سیاسی فیصلے کہ چند نکات پر ہی عمل کروانا ہے تو بہتر ہوگا کہ وہ عدالتیں بند کرکے الیکشن لڑیں اور کھل کر سیاست کریں۔ عدلیہ کا وقار اسی وقت برقرار رہتا ہے جب اس کے احکامات کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے۔ عدالت اگر شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا حکم دیتی ہے تو حکومت کو اس پر عمل کرنا چاہیے اور اگر حکومت کو کسی حکم پر قانونی اعتراض ہے تو اس کے لیے آئینی و قانونی راستے موجود ہیں۔

ریاستی اداروں کے درمیان کشمکش کا نتیجہ عام شہری کے بنیادی حقوق کی معطلی نہیں ہونا چاہیے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عدالتی حکم پر عمل ہو، راستے ممکن حد تک کھلے رہیں اور ادویات والے کنٹینرز فوری طور پر بازیاب کرکے ہسپتالوں تک پہنچائے جائیں۔ امن کے نام پر مریضوں کی دوا روکنا کسی بھی حکمت عملی کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔اسلام آباد میں سیاسی احتجاج ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے۔ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے، انتظامیہ کو امن و امان قائم کرنے کا اختیار حاصل ہے اور عدالتوں کو آئین و قانون کی تشریح اور بنیادی حقوق کے تحفظ کا اختیار حاصل ہے۔ لیکن ان تمام اختیارات کا مرکز عام شہری ہونا چاہیے۔ایک جمہوری ریاست میں حکومت کا امتحان صرف یہ نہیں کہ وہ احتجاج کو کتنی اچھی طرح روک سکتی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ احتجاج کے دوران وہ عام شہری کے حقوق کو کس حد تک محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اسی طرح عدالت کا امتحان صرف حکم جاری کرنا نہیں بلکہ اس اصول کو واضح کرنا بھی ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے۔

سیاسی جماعتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کا احتجاج شہری زندگی کو مفلوج کرنے کا لائسنس نہیں۔آج سوال ادویات کے ایک کنٹینر کا ہے، کل یہی سوال ایمبولینس، مریض، طالب علم، ملازم یا کسی عام شہری کے راستے کا ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس معاملے کو محض ایک سیاسی تنازع سمجھ کر نظر انداز کرنا درست نہیں ہوگا۔ حکومت کو ادویات کی فوری ترسیل یقینی بنانی چاہیے، انتظامیہ کو حساس طبی سامان کے لیے خصوصی راستے مقرر کرنے چاہئیں اور عدالت کے حکم پر اس کی روح کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔آخر میں بات پھر وہیں آتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی: احتجاج بھی رہے، امن بھی رہے اور شہری کے بنیادی حقوق بھی محفوظ رہیں۔ ریاست کی اصل کامیابی یہی ہے کہ وہ سیاسی اختلاف کے باوجود معمولات زندگی کو جاری رکھے۔ کنٹینرز لگانے سے شاید ایک راستہ بند ہو جائے، مگر اگر اس کے نتیجے میں مریض کی دوا رک جائے تو مسئلہ صرف راستہ بند ہونے کا نہیں رہتا، یہ ریاستی ترجیحات پر سوال بن جاتا ہے۔ اور جب سوال بنیادی حقوق کا ہو تو اس کا جواب بھی آئین، قانون، شفافیت اور انسانی ضرورت کے مطابق ہی دیا جانا چاہیے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا