عمران رشید
یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر اور خطے میں بحری جہازوں، اسرائیل اور بعض علاقائی اہداف کے خلاف حملوں نے مشرق وسطیٰ کی پہلے سے پیچیدہ صورت حال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف دباؤ ڈالنے کے لیے ہیں، جبکہ امریکہ، اسرائیل اور بعض مغربی ممالک ان حملوں کو علاقائی سلامتی، عالمی تجارت اور بحری آمدورفت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اس کشیدگی نے اسلامی ممالک کے سامنے ایک مشکل سوال کھڑا کردیا ہے کہ وہ فلسطین کے مسئلے پر اپنے سیاسی مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے علاقائی جنگ کے پھیلاؤ اور معاشی نقصانات سے کس طرح بچ سکتے ہیں۔بحیرہ احمر دنیا کی اہم تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔
ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان کی بڑی مقدار آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر سے گزرتی ہے۔ حوثی حملوں کے نتیجے میں کئی بین الاقوامی جہاز رانی کمپنیوں نے بعض اوقات اس راستے سے گریز کرتے ہوئے افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کیا، جس سے سفر کا وقت، ایندھن کے اخراجات اور مال برداری کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ اس صورتحال کا اثر صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی سپلائی چین اور توانائی کی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔اسلامی ممالک کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ حوثی حملوں کو محض یمن کا داخلی مسئلہ سمجھا جائے یا اسے غزہ اور وسیع تر فلسطینی تنازعے کے تناظر میں دیکھا جائے۔ عرب اور مسلم ممالک کی اکثریت فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کرتی ہے، تاہم ان ممالک کے مفادات اور خطرات ایک جیسے نہیں۔ خلیجی ممالک کے لیے بحری تجارت، تیل کی برآمدات، بندرگاہوں کا تحفظ اور سرمایہ کاری کا ماحول بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ دیگر ممالک فلسطینی مسئلے پر زیادہ نمایاں سفارتی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔سعودی عرب کے لیے یہ معاملہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ یمن کے ساتھ طویل سرحد اور ماضی کے عسکری تجربے کی وجہ سے ریاض بخوبی جانتا ہے کہ یمن کی جنگ براہ راست فوجی کارروائی سے آسانی سے ختم نہیں ہوتی۔ اسی لیے سعودی پالیسی میں یمن کے معاملے پر مذاکرات اور سیاسی حل کو اہم مقام حاصل رہا ہے۔
سعودی عرب ایک طرف اپنے سرحدی اور اقتصادی مفادات کا تحفظ چاہتا ہے اور دوسری طرف خطے میں ایسی نئی جنگ سے گریز کرنا چاہتا ہے جو اس کے معاشی منصوبوں اور علاقائی استحکام کو متاثر کرسکے۔متحدہ عرب امارات کے لیے بھی بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ خلیجی ریاستوں نے گزشتہ برسوں میں بندرگاہوں، تجارتی راستوں اور لاجسٹکس کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ چنانچہ سمندری راستوں میں مستقل عدم استحکام ان کے اقتصادی مفادات کو متاثر کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک کے لیے حوثی حملوں کا جواب صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ سفارت کاری، بحری سلامتی اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ رابطوں کا مجموعہ ہوسکتا ہے۔قطر اور عمان جیسے ممالک کی پوزیشن بھی اہم ہے۔ عمان نے طویل عرصے سے یمن کے تنازعے میں رابطہ کاری اور مذاکرات کے لیے ایک نسبتاً قابل قبول کردار ادا کیا ہے۔ حوثیوں، سعودی عرب اور دیگر فریقوں کے درمیان بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے میں عمانی سفارت کاری کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں عمان کسی فوجی اتحاد کے بجائے مذاکرات، جنگ بندی اور سیاسی تصفیے پر زور دے سکتا ہے۔
ایران کا کردار اس پورے معاملے کا ایک اہم پہلو ہے۔ حوثی تحریک اور ایران کے درمیان سیاسی اور عسکری روابط پر امریکہ اور اس کے اتحادی مسلسل اعتراض کرتے رہے ہیں، جبکہ ایران حوثیوں کی حمایت اور اپنے کردار کے بارے میں مختلف مواقع پر اپنا مؤقف پیش کرتا رہا ہے۔ اسلامی ممالک کے لیے مشکل یہ ہے کہ خطے میں ایران اور عرب ممالک کے درمیان مقابلہ آرائی پہلے ہی کئی محاذوں پر موجود ہے۔ اگر حوثی حملے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان براہ راست کشیدگی میں تبدیل ہوتے ہیں تو اس کے اثرات عراق، شام، لبنان، خلیج اور دیگر علاقوں تک پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ترکی بھی اس معاملے میں ایک اہم سفارتی فریق ہے۔ انقرہ فلسطین کے مسئلے پر واضح سیاسی مؤقف رکھتا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ علاقائی جنگ کے پھیلاؤ سے بھی بچنا چاہتا ہے۔ ترکی کے لیے سفارتی کوششوں، بین الاقوامی رابطوں اور مسلم ممالک کے درمیان سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم کسی بھی بڑے اسلامی ملک کے لیے حوثیوں کی عسکری کارروائیوں کی مکمل حمایت کرنا ایک الگ نوعیت کا فیصلہ ہوگا کیونکہ اس سے عالمی بحری تجارت اور علاقائی سلامتی کے بارے میں اس ملک کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔
پاکستان کی صورتحال بھی قابل غور ہے۔ پاکستان اصولی طور پر فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کی حمایت کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ پاکستان خطے میں کسی نئی جنگ کا فریق بننے کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دے سکتا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے خلیج، بحیرہ عرب اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے براہ راست متاثر کرتی ہے۔ خلیجی ممالک میں بڑی تعداد میں پاکستانی شہری مقیم ہیں اور پاکستان کی معیشت کے لیے ترسیلات زر اور خلیجی ممالک سے اقتصادی روابط بہت اہم ہیں۔ اس لیے اسلام آباد کے لیے متوازن سفارت کاری زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔اسلامی ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا ایک ممکنہ بنیادی نکتہ یہ ہوسکتا ہے کہ فلسطینی مسئلے اور بحری سلامتی کے معاملات کو ایک دوسرے سے الگ مگر مربوط سفارتی موضوعات کے طور پر دیکھا جائے۔ فلسطینی حقوق کی حمایت اپنی جگہ برقرار رہ سکتی ہے، لیکن تجارتی جہازوں، شہریوں اور بین الاقوامی بحری راستوں کو نشانہ بنائے جانے کے معاملے میں ایک واضح علاقائی موقف بھی ضروری ہے۔
اسی طرح اسرائیل کے خلاف سیاسی دباؤ اور غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی مضبوط کیا جاسکتا ہے۔دوسرا اہم پہلو جنگ کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ اگر بحیرہ احمر میں حملے، جوابی حملے اور فضائی کارروائیاں طویل عرصے تک جاری رہتی ہیں تو یمن ایک بار پھر بڑے علاقائی تنازعے کا مرکز بن سکتا ہے۔ اس صورت میں نہ صرف یمن بلکہ سعودی عرب، خلیجی ریاستیں اور بحیرہ عرب کے ممالک بھی براہ راست یا بالواسطہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ اسلامی ممالک کے لیے بہتر حکمت عملی یہ ہوگی کہ وہ ایسے تمام راستے تلاش کریں جن سے حوثیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان کشیدگی کم کی جاسکے۔تیسرا پہلو انسانی بحران ہے۔ یمن پہلے ہی طویل جنگ، غربت، بے گھر ہونے اور بنیادی سہولتوں کی کمی سے شدید متاثر ہوا ہے۔ کسی بھی نئی عسکری مہم سے عام یمنی آبادی کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ اسلامی دنیا کے لیے ضروری ہے کہ یمن کے انسانی بحران کو بھی اپنی سفارتی ترجیحات میں شامل رکھے۔ جنگ کے بجائے سیاسی مذاکرات، انسانی امداد اور معاشی بحالی پر زور دیا جائے تو یہ علاقائی استحکام کے لیے زیادہ پائیدار راستہ فراہم کرسکتا ہے۔چوتھا مسئلہ عالمی تجارت کا ہے۔ بحیرہ احمر میں مسلسل خطرات سے جہاز رانی کے راستے تبدیل ہوتے ہیں
اور اس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ، توانائی اور صنعتی سامان کی ترسیل مہنگی ہوسکتی ہے۔ ترقی پذیر اسلامی ممالک پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا کررہے ہیں۔ اس لیے بحری راستوں کا غیر یقینی مستقبل ان کی معیشتوں کے لیے اضافی مسئلہ بن سکتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف عسکری طاقت کے ذریعے اس بحران کا مستقل حل تلاش کرنا مشکل ہوگا۔ حوثیوں کے پاس میزائل اور ڈرون صلاحیت موجود ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی جدید بحری اور فضائی طاقت رکھتے ہیں۔ طاقت کا یہ عدم توازن اپنی جگہ موجود ہونے کے باوجود کسی ایک فریق کی عسکری برتری لازماً سیاسی مسئلے کو ختم نہیں کرتی۔ یمن کی تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہاں سیاسی مفاہمت کے بغیر طویل المدت استحکام مشکل ہے۔اسلامی ممالک کے لیے ایک مشترکہ سفارتی فریم ورک اس صورت حال میں زیادہ اہم ہوسکتا ہے۔ سعودی عرب، ایران، ترکی، مصر، قطر، عمان اور پاکستان جیسے ممالک اپنے اپنے روابط استعمال کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ان ممالک کے مفادات مکمل طور پر یکساں نہیں، لیکن جنگ کے پھیلاؤ سے بچنا، فلسطین کے مسئلے کو سیاسی سطح پر اجاگر کرنا، یمن میں امن کی حمایت اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ جیسے نکات پر مشترکہ زبان پیدا کی جاسکتی ہے۔آخرکار حوثی حملے صرف میزائل اور ڈرون حملوں کا معاملہ نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کے بدلتے توازن، فلسطین کے بحران، ایران اور عرب ممالک کے تعلقات، عالمی تجارت اور علاقائی سلامتی کا مجموعہ ہیں۔ اسلامی ممالک کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی سیاسی اور اخلاقی حمایت برقرار رکھتے ہوئے اپنے خطے کو ایک وسیع جنگ سے بھی محفوظ رکھیں۔ اس مقصد کے لیے عسکری صف بندی کے بجائے سفارتی رابطے، مذاکرات، انسانی امداد، بحری سلامتی اور اقتصادی تعاون کو ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ بنانا زیادہ اہم ہوگا۔بحیرہ احمر میں امن صرف یمن یا عرب خطے کی ضرورت نہیں بلکہ عالمی معیشت کی ضرورت بھی ہے۔ اگر اسلامی ممالک مشترکہ سفارتی کوششوں کے ذریعے جنگ کے دائرے کو محدود کرنے، یمن میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانے اور فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے بین الاقوامی دباؤ پیدا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے مسلم دنیا کے بڑے ممالک کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر کم از کم ان مشترکہ مفادات پر اتفاق پیدا کرنا ہوگا جن کا تعلق امن، تجارت، انسانی جانوں اور علاقائی استحکام سے ہے۔






