تحریر و تحقیق:مسعود چوہدری
حج مقدس ترین دینی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ ریاست پاکستان کے لیے ایک ایسا انتظامی امتحان بھی ہے جس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں۔ ہر سال لاکھوں پاکستانی حاجی اپنی جمع پونجی، اپنا اعتماد اور اپنی روحانی امنگیں حکومتی مشینری کے سپرد کرتے ہیں، اور یہی امانت وہ کسوٹی ہے جس پر وزارتِ مذہبی امور کی کارکردگی پرکھی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں حج انتظامات، بالخصوص مشاعر سروسز اور متعلقہ ٹھیکوں کی الاٹمنٹ کا عمل، شفافیت کے بجائے بدعنوانی، اقرباء پروری، اور کمزور انتظامی عملداری کے تناظر میں شدید تنقید کی زد میں رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ امور ریاست کیساتھ محبت رکھنے والے مردان حق میں شدید نوعیت کے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں اور تازہ ترین پیش رفت اس تشویش کو مزید گہرا کر رہی ہے۔
معاملے کا پس منظر یہ ہے کہ الراجحی گروپ کو مشاعر خدمات کے ٹھیکے میں ایک عرصے سے تقریباً اجارہ دارانہ حیثیت حاصل رہی، اور اس بار بھی ابتدائی طور پر شرائطِ ٹینڈر کچھ اس انداز میں مرتب کی گئیں کہ گویا یہ خاص طور پر الراجحی ہی کے لیے تیار کی گئی ہوں۔ تاہم عین اس مرحلے پر جب معاملہ حتمی مراحل میں تھا، سعودی حکام نے الراجحی کا لائسنس معطل کر دیا اور یہ کمپنی خود اپنی داخلی وجوہات کی بنا پر پورے عمل سے ہی خارج ہو گئی۔ یہ پیش رفت بذاتِ خود اس امر کی گواہ ہے کہ جس ادارے کے گرد ہماری پوری پالیسی گھمائی جا رہی تھی وہ سعودی ریگولیٹری معیار پر ہی پورا نہیں اترتا تھا، اور اس کے باوجود اسے ترجیح دینے کی روش کیوں اپنائی گئی، یہ سوال تاحال جواب طلب ہے۔
اس پورے تناظر میں ڈی جی آفس آف پاکستان پلگرمز افیئرز (او پی اے پی) جدہ، عبدالوہاب سومرو کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ ماضی میں بھی ان کی تعیناتی میں توسیع اور ان کے دفتر کے فیصلوں پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، اور اب یہ الزام سامنے آیا ہے کہ انہوں نے اپنے دفتر کے لیے، یا اپنی پسند کے فریقین کے لیے، من پسند تعیناتی و تعاقب کی پالیسی خود ہی وضع کی۔ جب ایک ہی افسر پالیسی بھی بناتا ہو، شرائط بھی طے کرتا ہو، اور فیصلہ بھی خود ہی صادر کرتا ہو، تو ادارہ جاتی چیک اینڈ بیلنس کا پورا تصور ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جس نے الراجحی کے اخراج کے بعد دوبارہ ٹینڈرنگ کے عمل کو بھی مشکوک بنا دیا ہے۔
الراجحی کی نااہلیت کے بعد جب ری ٹینڈرنگ کا مرحلہ آیا تو توقع یہ تھی کہ گزشتہ غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے شفاف، کھلے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق شفافیت کیساتھ مقابلے کا اہتمام کیا جائے گا۔ مگر عملاً ایک بار پھر وہی طرزِ عمل دہرایا گیا اور ٹینڈر ایک ایسی کمپنی کے حق میں طے کر دیا گیا جس کے انتخاب کے پیچھے میرٹ سے زیادہ ترجیحی تعلقات، درپردہ مفادات اور خفیہ منفعت کارفرما نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ایک اجارہ دار ادارہ خود اپنی نااہلی کے باعث میدان سے باہر ہو چکا تھا، تو اس خالی جگہ کو حقیقی مسابقت سے پُر کرنے کے بجائے دوبارہ اسی ڈگر پر کیوں چلا گیا؟ کیا عدم مسابقتی عمل یا پالیسی وسیع تر قومی مفاد میں ہے؟ یقیناً جواب نفی میں ہے!
پاکستان کی حج ٹینڈر پالیسی کا بنیادی اور دیرینہ سقم یہی ہے کہ شرائطِ اہلیت میں غیر ضروری طور پر ایسی قیود شامل کر دی جاتی ہیں جو صرف من چاہی انہی کمپنیوں کو میدان میں رہنے دیتی ہیں جنہیں میدان میں رکھنا مطلوب ہو اور جو ماضی میں پاکستان کے ساتھ کام کر چکی ہوں۔ اس شرط کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ، سعودی حکام کے ہاں معتبر، اور مالی و انتظامی لحاظ سے کہیں زیادہ مستحکم کمپنیاں محض اس بنا پر عمل سے باہر ہو جاتی ہیں کہ ان کا پاکستان کے ساتھ کوئی سابقہ معاہدہ موجود نہیں۔ جب کسی کمپنی کو پاکستان نے اپنے ساتھ کام کرنے کا موقع ہی کبھی فراہم نہیں کیا تو دو درجن کمپنیوں کے اپلائ کرنے کے باوجود نتائج تو یہی رہیں گے کہ مخصوص کمپنی خدمت کے لیے اہل جبکہ باقی تمام نااہل قرار پائیں گی۔
یوں مقابلہ حقیقی معنوں میں کبھی کھلتا ہی نہیں، اور چند مخصوص کمپنیاں باری باری اسی محدود دائرے میں ٹھیکے حاصل کرتی رہتی ہیں۔ اس کا براہِ راست نقصان پاکستانی حاجی کو ہوتا ہے جسے وہ معیار اور سہولت میسر نہیں آتی جو کھلے مقابلے کی صورت میں ممکن تھی، جبکہ قومی خزانے کو بھی وہ بہتر نرخ اور شرائط میسر نہیں آتیں جو زیادہ کمپنیوں کی شرکت سے حاصل ہو سکتی تھیں۔ ماضی قریب میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی متعلقہ کمیٹیوں کے سامنے پاکستان پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی قواعد کی خلاف ورزیوں کی باضابطہ و بھرپور نشاندہی ہو چکی ہے، مگر افسوس کہ سفارشات پر عملدرآمد کی رفتار انتہائی سست رہی ہے۔
یہاں یہ بھی واضح رہے کہ ٹینڈر کی کل مالیت، فی حاجی لاگت اور اس میں اضافہ، اور موصولہ بولیوں کی حتمی تعداد سے متعلق باضابطہ اعداد و شمار وزارتِ مذہبی امور اور او پی اے پی جدہ کی جانب سے تاحال عوامی سطح پر جاری نہیں کیے گئے، لہٰذا وطن عزیز کو ہونے والے حتمی مالی نقصان کا تعین باضابطہ دستاویزات کی فراہمی کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا، اور یہ ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ یہ ریکارڈ فوری طور پر منظرِ عام پر لائیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ تمام تر صورتحال محض ایک انتظامی بے ضابطگی نہیں بلکہ قومی مفاد کے خلاف براہِ راست زیادتی ہے۔ حج، ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا سب سے حساس رشتہ ہے، اور جب اسی رشتے کی بنیاد ٹھیکیداری کے کھیل پر رکھ دی جائے تو نہ صرف حکومت کی ساکھ مجروح ہوتی ہے بلکہ سعودی حکام کے سامنے بھی پاکستان کا انتظامی وقار داؤ پر لگتا ہے۔ ایک ایسی کمپنی کا لائسنس معطل ہونا، جسے ہماری پالیسی سازی کا محور بنایا گیا تھا، اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ فیصلہ سازی میرٹ کے بجائے دیگر عوامل کے زیرِ اثر ہوئی۔ اس لیے ناگزیر ہے کہ حالیہ ٹینڈر ایوارڈ کو فوری طور پر معطل کیا جائے، اور مکمل شفافیت کے ساتھ ازسرِ نو ٹینڈرنگ کا عمل شروع کیا جائے جس میں اہلیت کی شرائط کو اس طرح مرتب کیا جائے کہ بین الاقوامی معیار کی ہر مستند کمپنی، خواہ اس کا پاکستان کے ساتھ سابقہ تجربہ ہو یا نہ ہو، برابری کی بنیاد پر مقابلے میں شریک ہو سکے۔
سیکریٹری وفاقی وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی ابرار احمد مرزا اور وفاقی وزیر سردار محمد یوسف سے دست بستہ و موئدبانہ گزارش ہے کہ وہ اس معاملے کو محض ایک محکمانہ فائل نہ سمجھیں بلکہ اسے اس فوری ترجیح کے ساتھ دیکھیں جس کی یہ متقاضی ہے۔ ڈی جی او پی اے پی جدہ کی جانب سے پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے اختیارات کو الگ کیا جانا چاہیے، اسی طرح وفاقی وزارت میں ہر درجہ و مقام پر پالیسی ساز، فیصلہ ساز، اور عملدرآمد کے ذمہ دار کے اختیارات کو الگ الگ کیا جانا چاہیے اور کسی بھی فرد کے پاس لامتناہی طاقت کا ارتکاز نہیں ہونا چاہیے، بدعنوانی اور مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا جانا چاہیے، اور ری ٹینڈرنگ کے پورے عمل کو PPRA قواعد اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق دوبارہ ترتیب دیا جانا چاہیے۔ وقت کم اور معاملہ نازک ہے، کیونکہ حج انتظامات کی تیاری میں ہر دن کی تاخیر آمدہ ایام کے لیے حاجیوں کی سہولت، بین الاقوامی طور پر وطن عزیز کے وقار، قومی وسائل تینوں پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔ اگر آج فوری، قابل ذکر، بامعنی، شفاف، فیصلہ کن اقدام نہ اٹھایا گیا تو کل یہی کہانی ایک نئے چہرے کے ساتھ دہرائی جائے گی، اور اس کا خمیازہ جہاں ایک بار پھر وہ حاجی بھگتیں گے جن کی خدمت کے نام پر یہ سارا نظام قائم کیا گیا ہے جبکہ وطن عزیز کے لیے بین الاقوامی طور پر برادر اسلامی ملک کے سامنے سبکی کا باعث بھی بنے گا۔





