چوری شدہ نوادرات کی واپسی کا نامکمل باب

0
2385

تحریر و تحقیق: مسعود چوہدری

اس تحریر کا محرک فقط یہ سوال ہے کہ اگر میرے گھر میں چوری ہو جائے اور ایک قیمتی و نادر شے چوری کر لی جائے تو میں کیا کروں گا؟ یہاں معاملہ ہزاروں نوادرات کی چوری اور کھربوں روپے مالیت کا ہے اور افسوس یہ ہے کہ جنکے ذمہ چور پکڑنا اور مسلسل چوری روکنا ہے وہ نہ جانے کس ضروری کام میں مصروف ہیں۔

نیویارک کے مین ہٹن میں ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر میں ایک اور مختصر تقریب منعقد ہوئی۔ اینٹی ٹریفکنگ یونٹ کے سربراہ کرنل میتھیو بوگدانوس نے پاکستانی قونصل جنرل عامر احمد آتوزئی کو بتایا کہ یہ نوادرات کی واپسی کا ساتواں مرحلہ ہے اور اب تک واپس آنے والی اشیاء کی مجموعی تعداد پانچ سو پچاس سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹکڑے بظاہر چھوٹے اور غیر اہم دکھائی دیتے ہیں مگر ان کی عمر یونانی اور مصری تہذیبوں سے بھی زیادہ قدیم ہے۔ قونصل جنرل نے انہیں بجا طور پر پوری انسانیت کا مشترکہ اثاثہ قرار دیا۔ یہ الفاظ درست ہیں، لیکن انکے پیچھے ایک ایسی کہانی چھپی ہے جو نصف صدی پر محیط ہے اور جس کا اصل باب، یعنی احتساب کا باب، تاحال نہیں لکھا گیا۔

یہ کہانی 1974 سے شروع ہوتی ہے، جب فرانسیسی ماہرینِ آثارِ قدیمہ جین فرانسوا ژاریج اور ان کی اہلیہ کیتھرین ژاریج نے بلوچستان کے علاقے کچھی میں مہرگڑھ کے نام سے ایک ایسی بستی دریافت کی جو نو ہزار برس قدیم تھی۔ 1974 سے 1986 اور پھر 1997 سے 2000 تک جاری رہنے والی کھدائیوں میں صرف مہرگڑھ سے بتیس ہزار کے لگ بھگ نوادرات برآمد ہوئے۔ گوکہ سیکریٹری وزارت ثقافت نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستان کے پاس ایک لاکھ سے زائد نوادرات موجود ہیں جن میں سے فقط دس ہزار کے لگ بھگ عوامی نمائش کے لیے رکھے جا سکے ہیں جس پر ماہرین کی رائے ہے کہ سیکریٹری موصوف اپنی ہی بیان کردہ نوادرات کی درست تفصیلات مہیا کرنے سے قاصر رہیں گے۔ یہ واحد دعویٰ ہی وزارت کی کارکردگی جانچنے کے لیے کافی ہے لیکن فی الوقت بیان کردہ کہانی کیساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ مہر گڑھ سے دریافت ہونے والے نوادارات کو دنیا کی قدیم ترین زرعی بستیوں کے شواہد، دندان سازی کے ابتدائی نمونے، اور وہ مٹی کے مجسمے جنہیں آثارِ قدیمہ کی دنیا میں انسانیت کی قدیم ترین آرٹیفیکٹس میں شمار کیا جاتا ہے۔ مگر دریافت کے بعد سے آج تک کسی سرکاری ادارے نے یہ نہیں بتایا کہ ان بتیس ہزار نوادرات میں سے کتنے محفوظ ہیں، کتنے میوزیمز میں ہیں، اور کتنے چوری ہو کر بیرونِ ملک پہنچ چکے۔ یہی سوال آج بھی جواب طلب ہے کہ مہرگڑھ سے اب تک کتنے آرٹیفیکٹس یعنی نوادرات چوری ہوئے؟ محکمہ آثارِ قدیمہ اور وزارت قومی ورثہ و ثقافت کے پاس اس کا کوئی مصدقہ جواب کیوں نہیں؟

اس لاپتہ ریکارڈ کا پہلا بڑا ثبوت نومبر 2022 میں سامنے آیا، جب امریکی حکام نے سبھاش کپور کے نیٹ ورک سے ضبط شدہ 192 نوادرات پاکستان کے حوالے کیے۔ نیویارک میں پاکستانی قونصل جنرل عائشہ علی نے اس موقع پر خود بتایا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران، ایک قبل ازیں 45 اشیاء کی شپمنٹ سمیت، مجموعی طور پر 237 نوادرات گندھارا کے علاقے سے چوری شدہ واپس آ چکے ہیں۔ ان 192 اشیاء میں ایک گندھارا مجسمہ اور مہرگڑھ کے ٹیراکوٹا مجسمے شامل تھے جو ساڑھے تین ہزار سے ساڑھے پانچ ہزار برس پرانے بتائے جاتے ہیں، یعنی وہی مہرگڑھ جس کی حفاظت کا کوئی مربوط نظام آج تک موجود نہیں۔ امریکی تفتیش کے مطابق یہ اشیاء نیویارک میں کپور کی گیلری “آرٹ آف دی پاسٹ” کے ایک گودام سے برآمد ہوئیں، جہاں یہ ضبطی سے قبل برسوں پڑی رہیں۔ وزارت کو سب سے پہلے خود ہی یہ بتانا چاہیے تھا کہ ان 237 نوادرات میں سے کتنے مہرگڑھ سے، کتنے گندھارا سے اور کتنے دیگر مقامات سے تعلق رکھتے تھے، اور ان کی چوری کی تاریخ و مقام کا تعین بروقت کیوں نہیں کیا جا سکا۔

یہی نیٹ ورک واحد نہیں تھا۔ اسی دوران ایک اور مقدمے میں جاپانی ڈیلر تاتسوزو کاکو نے سوات کی وادی سے اسمگل کی گئی دوسری صدی عیسوی کی بدھا پادا (بدھا کے قدموں کے نشان والا پتھر) کے سلسلے میں چوری شدہ مال رکھنے کا اعتراف کیا۔ یہ نوادرات سوات سے ٹوکیو اور پھر نیویارک پہنچی، جہاں اسے گیارہ لاکھ ڈالر میں فروخت کرنے کی تیاری تھی۔ کاکو کا یہ دعویٰ کہ اس نے یہ عمل بدھ مت کے فن کو پاکستان میں نظرانداز ہونے سے بچانے کے لیے کیا، ماہرین کے نزدیک بے بنیاد ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ سوات سے ٹوکیو تک یہ نوادرات کیسے پہنچیں، اور اس زنجیر میں کون کون شامل تھا۔

سب سے زیادہ چشم کشا واقعہ فرانس کا ہے۔ 2006 میں پیرس کے شارل دیگال ایئرپورٹ پر فرانسیسی کسٹم حکام نے پاکستان سے بھیجے گئے ایک پارسل سے سترہ مٹی کے برتن پکڑے، جو بظاہر سو سالہ پرانے ظاہر کیے گئے تھے۔ ماہرین کی جانچ سے معلوم ہوا کہ یہ دراصل دوسری و تیسری صدی قبل مسیح کے نال اور کلی تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے نوادرات ہیں جو بلوچستان کے قبرستانوں سے کھود کر نکالے گئے تھے۔ اس کے بعد کی تحقیقات میں ایک نامعلوم پیرس گیلری سے مزید سینکڑوں اشیاء برآمد ہوئیں، اور مجموعی تعداد 445 تک پہنچ گئی، اگرچہ پاکستانی دفترِ خارجہ نے 512 اور بعض میڈیا رپورٹس نے 486 کا ہندسہ بھی استعمال کیا۔ یہ تمام نوادرات، جن کی مالیت محض ایک لاکھ ستاون ہزار ڈالر بیان کی گئی، ایک ایسی مالیت جو ان کی تاریخی حیثیت کے سامنے انتہائ ہیچ ہے اور بظاہر بعید از حقائق معلوم ہوتی ہے۔

بالآخر 2 جولائی 2019 کو یہ نوادرات پیرس میں پاکستانی سفارت خانے کے حوالے کی گئیں۔ فرانسیسی حکام نے اس گیلری پر جرمانہ عائد کرنے کا اعلان کیا مگر نہ گیلری کا نام کبھی سرکاری طور پر ظاہر ہوا، نہ اس کے مالک کے خلاف مجرمانہ کارروائی ہوئی، نہ پاکستان میں اس نیٹ ورک سے جڑے کسی مقامی کھودنے والے، ڈیلر یا سہولت کار کی نشاندہی ہوئی اور نہ ہی ڈیلر اور گیلری کے خلاف کسی کاروائ کا مطالبہ باضابطہ طور پر سامنے آیا۔ یہی وہ سیریئسنیس ہے جسکا تسلسل آج تک قائم دائم ہے۔ بارہ سال تک جاری رہنے والا یہ کیس محض ایک معمولی انتظامی جرمانے پر ختم ہو گیا اور جسکی چوری ہوئ تھی یعنی ہماری اس نے کبھی کوئ علامتی احتجاج تک ریکارڈ پر لانا مناسب نہیں سمجھا۔ یہاں بھی وہی سوالات باقی ہیں جو مہرگڑھ اور کپور کیس میں اٹھتے ہیں کہ کیا پاکستان میں چوروں کیخلاف کوئی ایف آئی آر درج ہوئی؟ کیا کسی کو گرفتار کیا گیا؟ کیا وزارت نے کبھی فرانسیسی حکام سے وہ تفتیشی ریکارڈ طلب کیا جس میں اس گیلری تک پہنچنے کا سراغ موجود تھا؟

ان تینوں واقعات، 2019 کی فرانسیسی واپسی، 2022 کی امریکی واپسی، اور اب 2025-26 کے تازہ معاہدے، کا مشترکہ نقطہ یہ ہے کہ ہر بار غیر ملکی حکومت نے اپنی سرزمین پر برسوں کی تحقیقات کے بعد سمگلروں، خریداروں اور ڈیلروں تک رسائی حاصل کی، مگر پاکستان کی سرزمین پر، جہاں سے یہ نوادرات کھودے گئے، پیک کیے گئے اور سمگل کر کے ایک منظم نیٹورک کے زریعے بھیجے گئے، آج تک کوئی متوازی تحقیقات نہیں ہوئیں۔ کوئ گرفتاریاں عمل میں نہیں آئیں۔ ستائیس جولائی 2026 کو سینیٹر ہدایت اللہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کے اجلاس میں راقم کی درخواست پر یہی سوال ایک بار پھر اٹھا۔ سیکریٹری وزارتِ قومی ورثہ اسد رحمان گیلانی کمیٹی کو مطمئن نہ کر سکے، نہ نوادرات کی درست تعداد پر (513 یا 514)، نہ ان کی مالیت پر (منسٹری امریکی تخمینے 23 ملین ڈالر سے متفق ہی نہیں)، اور نہ اس بنیادی سوال پر کہ سبھاش کپور نیٹ ورک سے جڑے، اسلام آباد، بینکاک، ہانگ کانگ اور دبئی میں پھیلے مبینہ مقامی سہولت کاروں کے خلاف اب تک کیا کارروائی ہوئی۔ سیکریٹری موصوف نے کمیٹی کو گمراہ کرتے ہوئے بیان داغا کہ نوادرات پاکستان بننے سے پہلے چوری ہوئے جبکہ وہ مکمل طور پر لاعلم تھے کہ جن نوادرات کی بات ہو رہی ہے ان سائٹس کی دریافت ہی پاکستان بننے کے کئ سال بعد ہوئ۔ وفاقی سیکریٹری نے یہ اعتراف بھی کیا کہ وزارت کے پاس ایک لاکھ کے قریب نوادرات ریکارڈ میں ہیں جن میں سے محض دس ہزار نمائش کے لیے پیش کیے جا سکے ہیں

باقی کے لیے نہ جگہ ہے نہ مربوط ڈیجیٹل ریکارڈ۔یہ تفصیلات محض تاریخی دلچسپی کا معاملہ نہیں۔ ان کی اہمیت تین سطحوں پر ہے۔ پہلی سطح قومی سلامتی اور خودمختاری کی ہے، جب کوئی ملک اپنی زمین سے نکلنے والے نوادرات کا حساب نہیں رکھ سکتا تو یہ اس کی سرحدی و انتظامی نگرانی کی ناکامی کا اعلانیہ ثبوت ہے۔ دوسری سطح احتساب کی ہے، امریکہ، اٹلی، اور فرانس نے اپنے حصے کا کام کر کے دکھا دیا، چوروں کو پکڑا، سزائیں دیں، نوادرات واپس کیں، جبکہ پاکستان میں، جہاں اصل چوری ہوئی، آج تک ایک بھی مقامی سہولت کار، کھودنے والا مزدور، بدعنوان اہلکار یا ڈیلر بے نقاب نہیں ہوا۔ تیسری سطح مستقبل کی حفاظت کی ہے جہاں جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ نوادرات کہاں سے، کیسے اور کس کی ملی بھگت سے نکلے، وہی راستے آئندہ بھی استعمال ہوتے رہیں گے، اور آج جتنے نوادرات واپس آئے ہیں، اس سے کہیں زیادہ ابھی بھی نیلامی گھروں اور نجی کلیکشنز میں کہیں دفن ہوں گے۔

کارروائی اسی لیے ضروری ہے۔ محض تقریبات منانا، نمائشیں سجانا اور بین الاقوامی تعاون کا شکریہ ادا کرنا کافی نہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کو چاہیے کہ وہ اپنی جولائی کی ہدایت پر عمل درآمد کے لیے وزارتِ قومی ورثہ، محکمہ آثارِ قدیمہ، کسٹمز اور ایف آئی اے کے حکام کو دوبارہ طلب کرے، اور اس بار محض اعداد و شمار نہیں بلکہ نام مانگے۔ مہرگڑھ سے چوری شدہ اشیاء کی تصدیق شدہ فہرست، 2022 اور 2019 کے واقعات میں ملوث مقامی سہولت کاروں کی شناخت، ان کے خلاف درج مقدمات یا اس کی عدم موجودگی کی وجہ، اور ایک ایسی ڈیجیٹل رجسٹری کا قیام جو ملک کے تمام محفوظ و لاپتہ نوادرات کا ریکارڈ رکھے۔ کھربوں روپے کے اس ناقابل تلافی قومی ورثہ کے نقصان اور اسکے ازالہ پر خوفناک خاموشی افسوسناک ہے۔ جب تک ان سوالات و پارلیمانی ریکارڈ پر جواب طلب نہیں کیے جاتے، نیویارک کی ہر تقریب اور اسلام آباد کی ہر نمائش محض ایک نامکمل کہانی کا خوشنما سرورق ہی رہے گی، اور تہذیبوں کے چور، بغیر کسی خوف کے، اپنا کام جاری رکھیں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا