نئی سیاسی پیشرفت اور کامیابی کے امکانات

0
1254

تحریر و تحقیق: مسعود چوہدری

سیاست میں برف اکثر اعلان سے نہیں، اس خاموش لمحے سے پگھلتی ہے جب دونوں فریق یہ جان لیتے ہیں کہ تصادم کی قیمت مذاکرات کی قیمت سے زیادہ ہو چکی ہے۔ یکم اکتوبر کی شام اسلام آباد میں کچھ ایسا ہی منظر دکھائی دیا۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اعلان کیا کہ اپوزیشن اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں حکومتی ٹیم سے ملاقات کی دعوت قبول کر لی گئی ہے اور یہ ملاقات اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے دفتر میں آج بروز جمعہ بتاریخ 2 اکتوبر 2026 دوپہر بارہ بجے ہو گی۔ یہ اجلاس اس لحاظ سے غیر معمولی تھا کہ اس میں بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کے ساتھ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سمیت اپوزیشن اتحاد کے دیگر رہنما شریک تھے۔ برسوں بعد پی ٹی آئی کسی ایسی صف میں کھڑی نظر آئی جہاں فیصلہ تنہا جماعت کا نہیں، مشترکہ اپوزیشن کا ہے۔ یہی اس پیشرفت کا پہلا اور شاید سب سے اہم پہلو ہے، کیونکہ مذاکرات کی میز پر بکھری ہوئی اپوزیشن حکومت کے لیے سہولت ہوتی ہے اور متحد اپوزیشن اس کے لیے امتحان ہوتی ہے۔ گو کہ اب بھی خود کو اپوزیشن گرداننے والی متعدد سیاسی جماعتیں اب بھی مشترکہ اپوزیشن اتحاد سے باہر دکھائ دیتی ہیں لیکن فی الوقت پی ٹی آئ کا تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت پر اعتماد اپنے آپ میں ایک انتہائ اہم پیشرفت ہے خواہ صفوں میں اعتماد کا فقدان ہی کیوں نہیں۔

دوسری جانب حکومت کا رویہ بھی بدلا ہوا ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات کے بعد طے پایا کہ وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کا مشترکہ وفد پی ٹی آئی قیادت سے بات چیت کرے گا، جس میں محسن نقوی، رانا ثنا اللہ اور امیر مقام کے ساتھ پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شامل ہوں گے۔ یہ ترکیب محض رسمی نہیں۔ پیپلز پارٹی کو ساتھ بٹھا کر جہاں ایک جانب حکومت نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اس عمل کو ایک جماعتی نہیں بلکہ حکومتی اتحاد کا مشترکہ فیصلہ بنانا چاہتی ہے، تاکہ کل کو کسی بھی نتیجے کی ذمہ داری اکیلے کسی ایک کے کندھوں پر نہ آئے جبکہ دوسری جانب یہ فیصلہ پیپلز پارٹی بالخصوص آصف علی زرداری کے جمہوریت پسندانہ رویہ کا شاخصانہ بھی ہے۔ طاقت کی راہداریوں میں گونج یہی ہے کہ ایمرجنسی سے گورنر راج تک پیپلز پارٹی قیادت ہی ہے جس کے انکار نے حکومت کو مجبور کر دیا ہے کہ مل کر سیاسی مسائل کا حل نکالا جائے۔

ایک اور اہم ڈویلپمنٹ میں اسی روز راولپنڈی میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس کانفرنس نے اس منظر کو ایک اور رخ دیا۔ انہوں نے عمران خان سے اڈیالہ میں فوجی حکام کی ملاقاتوں اور لانگ مارچ سے متعلق سوال پر دوٹوک کہا کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں، سیاست سیاسی جماعتوں کے لیے ہے اور حکومتیں بھی سیاستدان ہی بناتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبوں سے بات کرنا وفاقی حکومت کا کام ہے۔ یہ جملے ماضی میں بھی کہے جاتے رہے ہیں، مگر اس بار ان کا وقت اور سیاق مختلف ہے۔ جب مذاکرات کی میز سج رہی ہو اور لانگ مارچ سر پر ہو تو یہ بیان دراصل گیند سیاسی قیادت کے کورٹ میں پھینکنے کے مترادف ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ اب سیاسی بحران کا سیاسی حل ڈھونڈنے کی ذمہ داری اور اس کی ناکامی کا بوجھ، دونوں حکومت اور اپوزیشن کو خود اٹھانا ہوں گے۔ بالخصوص حکومت پر ذمہ داری اس لیے زیادہ ہے کہ اختیار اور وسائل اسی کے پاس ہیں، اور بڑے فریق سے بڑے دل کی توقع کی جاتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کامیابی کے امکانات کتنے ہیں۔ حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ دونوں طرف کے کانٹے گنے جائیں۔ سب سے بڑا کانٹا عمران خان کی رہائی کا مطالبہ ہے۔ ستمبر کے آخر میں سامنے آنے والی حکومتی ذرائع کی اطلاعات کے مطابق حکومت نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کو مذاکراتی ایجنڈے سے باہر رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا مؤقف ہے کہ رہائی کا فورم عدالت ہے، حکومت نہیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کا مطالبہ عمران خان کے مناسب علاج اور رہائی پر مشتمل ہے، جبکہ اپوزیشن کی جماعتیں لانگ مارچ کی صورت میں حکومتی اقدامات اور جوابی حکمت عملی پر بھی غور کر چکی ہیں۔ یہ فاصلہ کم نہیں، مگر ناقابلِ عبور بھی نہیں۔ ماضی کے مذاکرات بتاتے ہیں کہ جب رہائی جیسے بنیادی مطالبے پر اتفاق ممکن نہ ہو تو بات علاج، ملاقاتوں کی سہولت، گرفتار ارکان کے مقدمات، اور سیاسی سرگرمیوں کی آزادی جیسے ذیلی نکات پر آگے بڑھ سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر کے ایجنڈے میں گرفتار ارکان اور مزید گرفتاریوں کا معاملہ بھی شامل تھا۔ یہی وہ زمین ہے جہاں پہلی پیش رفت ممکن ہے۔

دوسرا کانٹا خیبر پختونخوا کی صورتحال ہے۔ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی چار اکتوبر کے لانگ مارچ کی منظوری دے چکی ہے، جس کا آغاز وزیراعلیٰ سہیل آفریدی جنوبی اضلاع سے کریں گے، اور ذرائع کے مطابق ایمرجنسی یا گورنر راج کی صورت میں گورنر ہاؤس کے باہر دھرنے کا فیصلہ بھی ہو چکا ہے۔ ادھر رانا ثنا اللہ کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی کہ حکومتی صفوں میں درپردہ رابطے جاری ہیں اور ناکامی کی صورت میں گورنر راج بھی زیر غور ہے، جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اس سوال کو قبل از وقت قرار دے چکے ہیں۔ یعنی ایک ہاتھ میں مذاکرات کی دعوت ہے اور دوسرے میں آئینی اقدام کا خدشہ۔ دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ حکومت گورنر راج کی تلوار میان میں رکھے اور اپوزیشن لانگ مارچ کو مذاکرات پر دباؤ کے بجائے مذاکرات کی کامیابی تک مؤخر رکھنے پر غور کرے۔ دونوں فریق اگر اپنے اپنے ترپ کے پتے میز سے اٹھا لیں تو اعتماد سازی کا پہلا قدم خود بخود طے ہو جاتا ہے۔

تیسرا کانٹا مقام اور اعتماد کا ہے۔محمود خان اچکزئی چیف الیکشن کمیشنر تعیناتی کے تناظر میں کہہ چکے ہیں کہ وہ وزیراعظم ہاؤس، اسپیکر کے گھر یا وزیراعظم چیمبر میں ملاقات کے لیے نہیں جائیں گے۔ اب سیاسی مسائل کے حل کے لیے ملاقات اسپیکر کے دفتر میں طے ہوئی ہے، جو بذاتِ خود ایک لچک کی علامت ہے، مگر یہ دیکھنا ہو گا کہ اپوزیشن کے اندر اس پر کتنی یکسوئی رہتی ہے۔ مشترکہ اپوزیشن کی اصل آزمائش یہی ہو گی کہ وہ ایک آواز میں بات کر پاتی ہے یا نہیں۔جبکہ اپوزیشن کے ممبران قومی اسمبلی میں زیر لب یہ سوچ بھی پائ جاتی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اور بالخصوص سہیل آفریدی کی ٹیم کو مشترکہ اپوزیشن کے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانا مشکل ہو گا۔لیکن اس امر کو تاحال خاموش رکھتے ہوئے آگے بڑھا گیا ہے۔ آپسی تحفظات اپنی جگہ قائم ہیں۔

اس سب کے باوجود راقم کی رائے میں امکانات اتنے مدھم نہیں جتنے بظاہر نظر آتے ہیں۔ دونوں فریق یہ جان چکے ہیں کہ سڑکوں کی سیاست اور طاقت کا استعمال کسی کے حق میں نہیں جاتا، اور ملک کی سلامتی کی صورتحال، بالخصوص خیبر پختونخوا میں، سیاسی کشمکش کی متحمل نہیں۔ کامیابی کا راستہ یہ ہے کہ پہلی نشست کو فتح و شکست کا میدان بنانے کے بجائے ایک مختصر، قابلِ عمل ایجنڈے پر اتفاق کیا جائے، مذاکراتی کمیٹیاں مستقل بنیادوں پر بیٹھیں، اور لانگ مارچ سے پہلے کم از کم ایک ایسی پیشرفت سامنے آئے جسے دونوں فریق اپنی کامیابی کہہ سکیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو چار اکتوبر کا دن مذاکرات کی میز کو الٹنے کا بہانہ بھی بن سکتا ہے۔

آخری بات یہ کہ جب ادارے سیاست سے الگ ہونے کا اعلان کریں تو سیاسی قیادت کے پاس عذر کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ اب اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اس کا الزام حسب سابق کسی نادیدہ قوت پر نہیں دھرا جا سکے گا۔ تاریخ ایسے مواقع بار بار نہیں دیتی، اور حکومت کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنی لچک کو عملی فیصلوں میں ڈھال کر ثابت کرے کہ سیاسی مسائل کا حل واقعی سیاست دانوں کے پاس ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا