پی ٹی آئی اسلام آباد آکر احتجاج کرنا چاہتی ہے تو رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے: مولانا فضل الرحمان

0
520

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اگر اسلام آباد آکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی ہے تو اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے، احتجاج کرنا ایک جمہوری حق ہے۔

اپوزیشن کے وفد نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، جس میں علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسفزئی سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔ جے یو آئی کی جانب سے سینیٹر کامران مرتضیٰ سمیت دیگر قائدین نے ملاقات میں شرکت کی۔

ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم مذاکرات کا حصہ نہیں تھے لیکن مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ حکومت نے مذاکرات کی گنجائش نہیں چھوڑی، تاہم جب مذاکرات ہوں تو سیاسی لب و لہجے میں ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بھی لانگ مارچ کیے ہیں، یہ ایک جمہوری حق ہے۔ پی ٹی آئی اگر اسلام آباد آکر احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی ہے تو رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ ملک کے اندر سیاسی معاملات میں میانہ روی کی طرف جانا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر مشاورت ہونی چاہیے، کیونکہ ہمیں اپنے علاقوں کی صورتحال کا بخوبی علم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئین اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم سب محب وطن ہیں۔

سربراہ جے یو آئی نے مزید کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے، اس حوالے سے اپنی اپنی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی اور مشترکہ ایجنڈے کے تحت کانفرنس منعقد کی جائے گی۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک کی معاشی اور امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں، سیاستدان مسائل کا حل نکالتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے اور مولانا کی طرح ہم بھی ایک متفقہ ایجنڈے کے خواہاں ہیں۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ہم سب پاکستان کے بیٹے ہیں اور وطن کی مشکلات سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ مشاورت سے جو ایجنڈا تیار ہوگا اس میں پورے پاکستان کے مسائل کا حل شامل ہوگا، ہم سب مل کر مشترکہ سیاسی جدوجہد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں سیاسی عمل روک دیا جائے وہاں انتہا پسند رویے پروان چڑھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کو بھی مسترد کیا ہے اور ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے مسائل کا حل گورنر راج یا ایمرجنسی نہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا