محمد ازن عباس مہدی
حکومت اور اپوزیشن کے حالیہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کا مؤقف ہے کہ سیاسی معاملات پر تقریباً اتفاق ہوچکا تھا، مگر انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر خیبر پختونخوا حکومت کے پیچھے ہٹنے سے سمجھوتا نہ ہوسکا۔ دوسری طرف پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت عمران خان سے مشاورت اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی پر اتفاق کرنے کو تیار نہیں تھی۔ یوں دونوں فریق ناکامی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق مذاکرات میں دو بڑے اختلاف سامنے آئے: عمران خان کی اپنے ذاتی معالجین سے ملاقات اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا طریقۂ کار۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ صوبائی حکومت سے انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات پر تعاون کی یقین دہانی مطلوب تھی۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ صوبے سے متعلق فیصلے وہاں کی اسمبلی، سیاسی جماعتوں اور مقامی لوگوں سے مشاورت کے بعد ہونے چاہئیں۔ یہ اختلاف محض الفاظ کا نہیں؛ اس میں ایک طرف سلامتی کے تقاضے اور دوسری طرف صوبائی اختیار اور سیاسی اعتماد کا سوال شامل ہے۔ سہیل آفریدی کا کردار یقیناً اہم تھا۔ جب مذاکرات میں صوبائی حکومت کی رضامندی درکار ہو تو اس کے سربراہ کی بروقت شرکت اور واضح فیصلہ ضروری ہوتا ہے۔
حکومت اور پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے الزام لگایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے طے شدہ مسودے پر دستخط سے انکار کیا؛ پی ٹی آئی نے اس کے برعکس کہا کہ اس کی کمیٹی مکمل اختیار کے ساتھ مذاکرات میں شریک تھی اور مسودے میں صوبے کی تجاویز شامل نہیں کی گئیں۔ چونکہ دونوں دعوے فریقین کے اپنے بیانات ہیں، اس لیے کسی ایک کو قطعی حقیقت قرار دینا درست نہیں۔ اسی طرح، مذاکرات جاری ہوتے ہوئے لانگ مارچ شروع کرنا بھی سیاسی طور پر ایسا قدم تھا جس نے مفاہمت کی گنجائش کم کی۔ لیکن اس سے حکومت کی ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی۔ اگر عمران خان سے ملاقات یا طبی رسائی اپوزیشن کے لیے بنیادی شرط تھی تو اسے واضح طور پر زیرِ بحث لا کر کوئی قابلِ عمل راستہ نکالنا چاہیے تھا۔ اسی طرح انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر محض تعاون کا مطالبہ کافی نہیں؛ مشترکہ مشاورت، صوبائی اسمبلی کے کردار اور طے شدہ اقدامات کی نگرانی کے لیے تحریری طریقۂ کار بھی ضروری تھا۔ میڈیا نے بھی نشاندہی کی کہ دونوں جانب سے الزام تراشی کے باوجود یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آخری مرحلے میں درمیانی راستہ کیوں نہ نکلا۔ لہٰذا مذاکرات کی ناکامی کا سارا بوجھ صرف سہیل آفریدی پر ڈالنا دستیاب حقائق سے ثابت نہیں ہوتا۔
ان کے فیصلوں اور لانگ مارچ کے اعلان نے تعطل میں حصہ ضرور ڈالا، مگر حکومت بھی اعتماد پیدا کرنے اور حساس اختلافات پر قابلِ قبول سمجھوتا پیش کرنے میں ناکام رہی۔ اصل ذمہ داری دونوں جانب کی سیاسی قیادت پر ہے: حکومت پر اس لیے کہ اس نے اختلافات دور کرنے کے لیے کافی لچک اور وضاحت نہیں دکھائی؛ اور اپوزیشن پر اس لیے کہ اس نے احتجاجی دباؤ کو مذاکرات پر ترجیح دی۔ اب بھی بہتر راستہ یہی ہے کہ فریقین الزام تراشی روک کر بات چیت دوبارہ شروع کریں، عمران خان کی طبی رسائی اور صوبے کی سلامتی کے معاملات پر واضح تحریری لائحۂ عمل بنائیں، اور احتجاج و حکومتی کارروائی دونوں کو قانون کے دائرے میں رکھیں۔ سیاسی اختلاف کا جواب سڑکوں کی کشیدگی نہیں، بامعنی مکالمہ ہے۔





