تحریر و تحقیق: مسعود چوہدری
جرمن اخبار ٹاگس شپیگل میں شائع ہونے والے مہمان مضمون کا عنوان ہے کہ صدر زرداری کا استقبال “حکمتِ عملی کے بجائے چھوٹ جانے کا خوف” ہے۔ لیکن مضمون پڑھ کر لگتا ہے کہ خوف دعوت دینے والے کو نہیں، لکھنے والے کو ہے۔ اسے خوف ہے کہ برلن اور اسلام آباد کے تعلقات کہیں اس رخ پر نہ چل پڑیں جو اس کی پسندیدہ ترجیحات کے نقشے میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ اخبار نے خود اسے اداریہ نہیں، مہمان تحریر کے طور پر شائع کیا ہے، یعنی یہ جرمن ریاست کی رائے ہے نہ جرمن میڈیا کی بلکہ ایک مصنف کی ذاتی رائے جو بطور صحافی شائع کرنے کے بجائے ایک نجی تھنک ٹینک سے وابستہ تجزیہ کار کی رائے کے طور پر شائع کیا گیا ہے۔مصنف لیو وِگر جرمن کونسل برائے خارجہ تعلقات کے انڈیا سنٹر کے سربراہ ہیں۔ ان کی حالیہ تحریروں میں جرمنی کی بھارت پالیسی کے لیے “مثبت حقیقت پسندی” کی وکالت شامل ہے، اور وہ بھارت کی اقتصادی و تزویراتی اہمیت پر لکھتے رہے ہیں۔ بھارت سے یہ دلچسپی کوئی جرم نہیں، لیکن جب کسی ادارے کے انڈیا سنٹر کا سربراہ پاکستان کے صدر کے دورے کو “غلطی” قرار دے اور اسی سانس میں بھارت کے ساتھ شراکت کے گن گائے تو قاری کو یہ بتانا لازم ہے کہ وہ ماہرانہ غیر جانبداری نہیں، فکری بدیانتی پر مبنی ایک فریق کی وکالت پڑھ رہا ہے۔ مضمون میں بھارت کا ذکر جس نرمی سے موجود ہے اور پاکستان کے بارے جس سختی پر مبنی بغضیہ انداز میں بیان کیا گیا ہے، وہ اسی جھکاؤ کی چغلی کھاتا دکھاء دیتا ہے جسکا۔پاکستان سے یہ بغض مضمون کی ساخت میں جگہ جگہ جھلکتا ہے۔
ثالثی کی کامیابی کو “عارضی” کہا گیا، سعودی دفاعی معاہدے کو “قابلِ اعتراض”، فوج کی تعیناتی کے وعدے کو مشکوک، اور خارجہ پالیسی کی نئی اہمیت کو “نازک” قرار دیا گیا ہے جو کہ کلی طور پر مخصوص بھارتی پراپگنڈا کا جرمن ورژن ہے۔ مصنف خود مانتے ہیں کہ 151 بین الاقوامی ماہرین کے سروے میں 68.3 فیصد نے ایران امریکہ ثالثی میں پاکستان کے کردار کو مثبت قرار دیا، جو کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے۔ یعنی عالمی ماہرین کی اکثریت جس کردار کو سراہتی ہے، مصنف اسے چند جملوں میں “دم توڑتا ہوا” کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔ جب شواہد ایک طرف جا رہے ہوں اور نتیجہ دوسری طرف، تو اس کا نام تجزیہ نہیں، فکری بددیانتی ہے۔اہم حقائق سیلاعلمی بھی کم نہیں۔ مصنف لکھتے ہیں کہ معاشی دلچسپی کم ہے اور پاکستان جرمنی کے پچاس بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل نہیں، یہ دعویٰ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا اور شاید یہی وجہ ہے کہ جرمن صدر کی ترجمان کرسٹن گاملین کو کہنا پڑا ہے کہ دونوں ممالک اپنی شراکت داری کو برقرار رکھنے اور مزید مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں۔
کیا یہ ممکن ہے کہ ایک اہم تجارتی شراکت دار کیساتھ اہم نوعیت کے معاملات جاری ہوں اور انہیں مضبوط بنانے کی تگ و دو جاری ہو اور ایک تجزیہ کار دعویٰ کر دے کہ وہی ملک شراکت داروں میں شامل نہیں۔ دوسری جانب، جرمن دفتر خارجہ کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق جرمنی یورپی یونین میں پاکستان کا سب سے اہم تجارتی شراکت دار ہے اور 2024 میں دو طرفہ تجارت 3.3 ارب یورو رہی۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات جرمن منڈی میں جاتی ہیں اور وہاں سے مشینری، کیمیکل اور گاڑیاں آتی ہیں۔ جرمن دفتر خارجہ ہی کے مطابق نو ہزار سے زیادہ پاکستانی نوجوان جرمنی میں زیرِ تعلیم ہیں اور ترقیاتی تعاون 1961 سے جاری ہے۔ مئی 2026 میں نو منصوبوں کے لیے 40.5 ملین یورو کا تکنیکی تعاون معاہدہ بھی ہوا۔ جو شخص جرمن حکومت کے اپنے اعداد و شمار سے بے خبر ہو، وہ جرمن خارجہ پالیسی کو سبق دینے کا اہل کیسے ہو گیا؟صدر زرداری پر “مسٹر ٹین پرسنٹ” کی پرانی پھبتی دہرانا تجزیہ نہیں، فکری بدیانتی ہے۔
یہ الزامات دہائیوں پرانے سیاسی مقدمات سے جڑے ہیں جن میں وہ عدالتوں سے بری ہو چکے ہیں، لیکن مصنف نے ان مقدمات کے انجام کا ذکر تک نہیں کیا۔ الزام کو یوں لکھا گیا جیسے وہ ثابت شدہ حقیقت ہو۔ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی برطرفی میں صدر کے “رضامند ساتھی” ہونے کا دعویٰ بھی بے حوالہ ہے۔ تحریر کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان الزامات کو اس نوعیت کیساتھ بیان کیا گیا ہے کہ جب کسی مصنف کے پاس بیانیہ ختم ہو جائے اور دلائل ختم ہو جائیں تو اس نوعیت کے جھوٹے اور سطحی جملوں کا سہارا لیا جانے لگے۔ جو لکھاری ہر نامطلوب حقیقت چھپائے اور ہر الزام کو فیصلہ بنا کر پیش کرے، وہ دانستہ دیانت سے منہ موڑ رہا ہے۔مضمون کی ٹائمنگ بھی سوال اٹھاتی ہے۔ یہ دورے کے عین دوران شائع ہوا، جب دونوں ملک پچھتر برس کے سفارتی تعلقات کا جشن منا رہے تھے۔ اس وقت دورے کو “غلطی” کہنا محض رائے کا اظہار نہیں، رائے عامہ کو متاثر کر کے دورے کی ساکھ مجروح کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ مصنف کا مطالبہ ہے کہ صدر کی میزبانی کے بجائے تھنک ٹینکوں اور ماہرین سے رابطہ رکھا جائے، یعنی ایسے ہی اداروں سے جن کی نمائندگی وہ خود کرتے ہیں۔ یہ کوشش ناکام رہی۔
جرمن صدر شٹائن مائر نے فوجی اعزاز کے ساتھ استقبال کیا، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے کی امید ظاہر کی، اور پاکستان کے علاقائی سفارتی کردار کی تعریف کی۔ چار دن پہلے سفیر سلمان شریف سے اسناد وصول کرتے ہوئے بھی انہوں نے پاکستان کے علاقائی امن میں اہم کردار کا اعتراف کیا تھا۔سب سے مضحکہ خیز نکتہ بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل کا حوالہ ہے۔ مصنف اشارہ دیتے ہیں کہ گوئل بھی اسی دن بڑے تجارتی وفد کے ساتھ برلن میں تھے، گویا ایک وزیر کا تجارتی دورہ اور ایک ایٹمی ملک کے صدرِ مملکت کا سرکاری دورہ ایک ہی ترازو میں تولے جا سکتے ہیں۔ صدر ریاست کا سربراہ ہوتا ہے اور اس کا دورہ پروٹوکول، فوجی اعزاز اور سربراہی سطح کی ملاقات کا حامل ہوتا ہے، جبکہ وزیرِ تجارت حکومت کا ایک شعبہ دیکھتا ہے۔ دونوں کے مقاصد، سطح اور حیثیت میں کوئی مماثلت نہیں، اس لیے یہ موازنہ ہی بنیادی طور پر بے معنی ہے۔ پھر یہ بھی دیکھیں کہ اگر گوئل کی آمد برلن کے لیے معمول کی بات ہے تو زرداری کی آمد “غلطی” کیسے ہو گئی؟ اگر برلن ایک ہی دن دونوں کا میزبان ہو سکتا ہے تو یہ ثابت کرتا ہے کہ جرمنی جنوبی ایشیا میں “یا یہ، یا وہ” کی پالیسی پر نہیں چلتا۔
دلیل خود مصنف کے خلاف جاتی ہے۔مضمون کا اندرونی تضاد اس کی رہی سہی ساکھ بھی ختم کر دیتا ہے۔ آخر میں مصنف تسلیم کرتے ہیں کہ جرمنی پاکستان کو نظرانداز نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ جوہری طاقت ہے، اس کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور وہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں شامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس ملک کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اس کے صدر سے ملاقات “غلطی” کیسے ہوئی؟ پاکستان کی بات اسی سطح پر سنی جائے گی جہاں فیصلے ہوتے ہیں، تھنک ٹینکوں کی بند کمروں کی نشستیں اس کا متبادل نہیں۔پچھتر برس کے سفارتی تعلقات فیشن کی پیروی نہیں ہوتے۔ جو ملک جوہری طاقت ہو، بڑی آبادی رکھتا ہو، افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھائے اور موسمیاتی آفات کی زد میں ہو، اس سے ہاتھ ملانا خوف نہیں، حکمتِ عملی ہے۔ غلطی وہ ہوتی جو مضمون تجویز کرتا ہے: ایسے ملک سے فاصلہ رکھنا جس کی اہمیت لکھنے والے کو بھی ماننی پڑ رہی ہے۔






