پی این ایس طارق جہاز پاک ترک دوستی ،بھائی چارے و تجارتی تعلقات کی بڑی مثال ہے ،وزیراعظم

0
153

کراچی(طلوع نیوز)وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ پی این ایس طارق جہاز کی لانچنگ ترکیہ اور پاکستان کے دورمیان تجارتی تعلقات میں اضافے ایک مثال ہے، پاکستان اور ترکیہ کی دوستی اور بھائی چارے کا تعلق بڑا مثالی ہے۔وزیراعظم محمد شہبازشریف نے ترکیہ کے نائب صدر کے ہمراہ پی این ایس طارق کی لانچنگ کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان عظیم رہنما ہیں جو غیر معمولی طور پر اپنی قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چین کے اعلیٰ سطح کے وفد نے پاکستان کا دورہ کیا اور ہم نے سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا، اس کی کئی جہتیں ہیں، اس میں گرین کوریڈور، بزنس کوریڈور، اسپیشل کوریڈورز اور انفارمیشن کوریڈورز سمیت دیگر مختلف شعبوں کے حوالے سے معاہدے شامل ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ اس معاہدے سے پاکستان اور چین کے تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا، میں اپنے برادر ملک ترکیہ کو دعوت دوں گا کہ وہ اس مشترکہ منصوبے میں شامل ہو۔شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں ہمیں جن معاشی چیلنجز کا سامنا رہا، اس کا سب سے زیادہ بوجھ اس ملک کے غریب عوام پر پڑا، اس کی کئی وجوہات ہیں جن کی تفصیل میں اس وقت نہیں جا رہا، اس میں بیرونی کساد بازاری، مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان معاشی مشکلات کے باوجود اس جدید جہاز کی تیاری میں شامل ٹیم کی کاوشیں تسلیم کرتے ہوئے، اس کا حوصلہ بڑھانے کے لیے میں 20 کروڑ روپے کا تحفہ لایا ہوں، اس کی تقسیم نیول چیف حصہ بقدر حثہ کے حساب سے کریں گے۔ ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہاز کی تیار ی میں شامل ٹیم کو مبارکباد دی اور کہا کہ اپنی تقریر کا آغاز کرنے سے قبل میں باجوڑ میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرنے کے ساتھ لواحقین سے تعزیت اور واقعے پر اظہار افسوس کیا۔انہوں نے کہا کہ ہر طرح کی دہشت کی مذمت کرتے ہیں، یہ عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، سیلاب میں جہاں ترکیہ نے پاکستان کی مدد کی وہیں، زلزلہ کے دوران پاکستان کا تعاون مثالی تھا۔ترک نائب صدر نے کہا کہ خطے میں پاکستان کو خاص اسٹریجک حیثیت حاصل ہے، پاکستان اور ترکیہ کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان کو دہشت گردی کا بھی سامنا ہے جس سے ملک کے عوام کو ہونے والی تکلیف کا ہمیں احساس اور اندازہ ہے، ہمیں اس دہشت گردی کا ملک کر مقابلہ کرنا چاہیے۔قبل ازیں پاکستان اور ترکیہ کے باہمی اشتراک سے تیار ہونے والا ملجم کلاس جنگی بحری جہاز پی این ایس طارق پاک بحریہ کے بیڑے میں شامل ہو گیا۔ اس موقع پرمنگل کو کراچی شپ یارڈ میں منعقدہ خصوصی تقریب میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز نے شرکت کی ۔ ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز تقریب کے مہمان اعزاز تھے۔تقریب میں وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر ، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی ، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل امجد نیازی سمیت اعلیٰ سول و فوجی حکام نےشرکت کی۔وزیراعظم محمد شہبازشریف نے ترکیہ کے نائب صدر کے ہمراہ پی این ایس طارق کی لانچنگ کی۔ پی این ایس طارق ملجم کلاس کارویٹ جنگی جہاز ان چار بحری جہازوں میں سے ایک ہے، جو ترکیہ کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدے تحت ترک اور پاکستانی انجینئر مل کر بنا رہے ہیں۔2018میں پاک بحریہ اور ترکیہ کے درمیان 4 جنگی بحری جہازوں کی تیاری کا معاہدہ ہوا تھا۔معاہدے کے تحت 2 جہاز ترکیہ اور 2 جہاز پاکستان میں تیارکئے جا رہے ۔ اس سے قبل 3 جہازوں کی لانچنگ ہو چکی ہے اور وہ تکمیل کے مختلف مراحل میں ہے۔ پی این ایس طارق پاکستان میں تیار ہونے والا دوسرا بحری جنگی جہاز ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم کو جہاز کی تیاری کے متعلق بریفنگ دی گئی۔پی این ایس طارق ملجم (MILGEM) کلاس کارویٹ جنگی جہاز ان چار بحری جہازوں میں سے ایک ہے جو ترکیہ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدے تحت ترکیہ اور پاکستانی انجنئرز مل کر بنا رہے ہیں.پاکستان اور ترک ڈیفنس کمپنی Ms ASFAT کے ساتھ 06 ستمبر 2018 کو 4 ملجم کلاس کارویٹس کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ اس پروجیکٹ کے تحت استنبول نیول شپ یارڈ اور کراچی شپ یارڈ میں دو / دو جہاز تیار کیے کیے گئے۔ یہ جہاز اپنے سرفیس ٹو سرفیس میزائلوں اور مین گن سے درمیانے سائز کے اہداف کا پتہ لگانے اور ان پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ جہاز سطح آب، زیر آب اور فضائی اہداف کا پتہ لگانے کے لیے جدید ترین سینسر سے لیس ہے۔ اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے جارحانہ اور دفاعی دونوں ہتھیار رکھتا ہے۔ ملجم جہاز ہیلی کاپٹر کے ذریعے آپریشنز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کیمپ کاپٹر سے بھی لیس ہے۔پہلا ملجم جہاز پی این ایس بابر 15 اگست 2021 کو استنبول، ترکیہ میں لانچ کیا گیا۔دوسرا جہاز پی این ایس بدر 20 مئی 2022 کو کراچی شپ یارڈ میں لانچ کیا گیا۔ تیسرا جہاز پی این ایس خیبر استنبول، ترکیہ میں 25 نومبر 2022 کو لانچ کیا گیا۔ چوتھا جہاز پی این ایس طارق آج کراچی شپ یارڈ میں لانچ کیا گیا۔اس منصوبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، کراچی شپ یارڈ کی اپ گریڈیشن اور خصوصی طور پر پاک بحریہ کے لیے بنائے جا رہے جناح کلاس فریگیٹس کے ڈیزائن کی باہمی تعاون سے تیاری بھی شامل ہے۔ ملجم کلاس جہازوں کی شمولیت سے پاکستان کے بحری مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مستقبل کی ضروریات کے لیے ضروری ڈیزائن اور جہاز سازی کے حوالے سے پاک بحریہ کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا