اسلام آباد : سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کولندن کی گلیوں میں ہراساں کیے جانے اور ہوٹنگ کرنے کی ویڈیوز سامنے آئیں ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جج کو لوگوں کا ایک گروپ ایک کار میں لے جا رہا ہے جب کہ دوسرے لوگ اس پر چیخ رہے تھے۔ ہیکلرز پی ٹی آئی کی حمایت میں اور فوج کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ اس ہنگامہ آرائی پر پی ٹی آئی کی جانب سے مذمتی بیان جاری کیا گیا ہے جس میں پی ٹی آئی کے یوکے چیپٹر نےکہا ہے کہ ملوث افراد پارٹی کی نمائندگی نہیں کرتے۔ سینئر نائب صدر جہانزیب خان نے ایک بیان پوسٹ کیا۔ اس پوسٹ کو پارٹی کے آفیشل اکاؤنٹ اور پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب خان نے بھی شیئر کیا تھا۔
واضح رہے کہ جسٹس من اللہ ہفتہ کو لندن سکول آف اکنامکس میں ‘فیوچر آف پاکستان کانفرنس’ کے مہمانوں میں شامل تھے۔
پی ٹی آئی یو کے معزز جسٹس اطہر من اللہ کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کی شدید مذمت کرتی ہے۔ وہ افراد جنہوں نے یہ کیا وہ پی ٹی آئی کی نمائندگی نہیں کرتے اور نہ ہی پی ٹی آئی یو کے ایسے کسی رویے کی پارٹی توثیق کرتی ہے
دریں اثنا، جہانزیب سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے،ہمارے علم میں آیا ہے کہ کچھ بدنام زمانہ افراد اس واقعہ میں شامل ہیں جنہیں لندن میں ن لیگ کے ہمدرد صحافیوں کی جانب سے اکثر ‘پی ٹی آئی کے حامی’ کہا جاتا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ یہ لوگ دراصل ن لیگ کے کچھ صحافیوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ جب بھی پاکستان سے کوئی بھی حکومتی عہدیدار لندن کا دورہ کرتا ہے تو ہنگامہ آرائی کی جاتی ہے۔ اورایسا پی ٹی آئی پر الزام لگانے کے لیے کرتے ہیں،تاکہ پی ٹی آئی کے خلاف اپنے منفی بیانیے کو مزید پھیلا سکیں۔ تاہم یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور پی ٹی آئی کے حقیقی حامیوں کی جانب سے احتجاج صرف پی ٹی آئی یو کے اور اس کے علاقائی اداروں کی آفیشل کال کے تحت ہوتا ہے،






