ایرانی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب اسرائیل کے مبینہ روابط رکھنے والے مال بردار جہاز ایم ایس سی ایریز کو قبضے میں لے لیا ہے۔ جہاز پر عملے کے 25 ارکان سوار ہیں جن میں 2 پاکستانی،17 بھارتی 4 فلپائنی، ایک روسی اور ایک ایسٹونیا کا شہری بھی شامل ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی اسپیشل فورسز نے متحدہ عرب امارات کے ساحل سے تقریبا 80 کلومیٹر دور خلیج ہرمز میں ایم ایس سی ایریز کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے آپریشن کیااس واقعہ کے چند گھنٹوں بعد بھارت نے کہا تھا کہ وہ 17 ہندوستانی شہریوں کی حفاظت اور جلد رہائی کو یقینی بنانے کے لئے ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ مال بردار جہاز ایم ایس سی ایریز کو ایران نے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ جس پر 17 ہندوستانی شہری سوار تھے۔
اطالوی سوئس شپنگ گروپ ایم ایس سی نے ایک بیان میں کہا کہ کنٹینر جہاز پر عملے کے 25 ارکان سوار تھے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایم ایس سی ایریز کو ایرانی حکام نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اس وقت سوار کیا جب وہ آج صبح تقریبا 0243 یو ٹی سی پر آبنائے ہرمز سے گزریں۔ ایم ایس سی کا کہنا ہے کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ ان کی فلاح و بہبود اور جہاز کی محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔پرتگالی جھنڈے والے اور اسرائیل سے وابستہ مال بردار بحری جہاز پر سوار 17 ہندوستانیوں میں ماسٹر بھی شامل ہیں۔
یہ جہاز لندن میں قائم جوڈیک میری ٹائم سے وابستہ ہے جو اسرائیلی ارب پتی ایال اوفر کے جوڈیک گروپ کا حصہ ہے۔جے شنکر نے ایرانی وزیر خارجہ سے بات چیت کی، پکڑے گئے جہاز سے ہندوستانیوں کی رہائی پر تبادلہ خیال کیا انہوں نے کہا کہ آج شام ایرانی وزیر خارجہ امیر عبداللہیان سے بات ہوئی۔ جے شنکر نے ایکس پر بتایا کہ ایم ایس سی ایریز کے عملے کے 17 بھارتی ارکان کی رہائی کا معاملہ اٹھایا گیا۔ کشیدگی سے بچنے، تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتکاری کی طرف لوٹنے کی اہمیت پر زور دیا۔






