سرگودھا (طلوع نیوز)معروف ماہر ِنفسیات لیفٹیننٹ کرنل (ر) پروفیسر ڈاکٹر علی ذوالقرنین نے کہا ہے کہ ذہنی صحت کے بغیر ہماری جسمانی صحت ادھوری ہے،دماغی صحت کے بغیرایک مکمل صحت مند زندگی کا تصور ممکن نہیں،دماغی اور نفسیاتی بیماریاں بعض اوقات جسمانی امراض کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے دماغی صحت کے عالمی دن کے موقع پر پریس کلب میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر تیسرا شخص ذہنی دباؤ کا شکار ہے،ذہنی دباؤ انسان کو خوف،غصہ،اداسی اور پریشانی میں مبتلا کر سکتا ہے، اینزائٹی اور ڈپریشن پاکستان سمیت دنیا بھر میں عام نفسیاتی امراض ہیں،یہ دونوں ذہنی عارضوں کی صف میں سر فہرست ہیں۔اینزائٹی دنیا بھر میں ذہنی امراض میں سر فہرست مانی جانے والی ایک بیماری ہے۔ ڈاکٹر علی ذوالقرنین نے کہاکہ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر 13میں سے ایک شخص اینزائٹی کا شکار ہے،کورونا وبا کے دوران دنیا بھر میں لاکھوں لوگ ایموشنل اور مینٹل کرائسس کا شکار ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں اگر کسی کو ذہنی عارضہ لاحق ہو جائے تو اسے چھپایا جاتا ہے اور ڈاکٹر کے پاس جانے کو معیوب سمجھا جاتا ہے،اگر کسی کو کوئی ذہنی مسئلہ درپیش ہو تو فوری طور پرماہر ِنفسیات سے رجوع کرنا چاہیئے،منفی سوچ ڈپریشن کا باعث بنتی ہے،پاکستان میں اس وقت ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کا مرض عام ہے جو کہ ہماری معاشرتی زندگی کا ایک تشویش ناک پہلو ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈپریشن ایک خطرناک مرض ہے جو نہ صرف انسان کی جسمانی اور نفسیاتی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ یہ سونے،جاگنے،حتی کہ کھانے پینے کو بھی متا ثر کرتا ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر علی ذوالقرنین نے صحافیوں کا چیک اپ بھی کیا۔






