اراکین پارلیمنٹ عوام کے ووٹ سے آتے ہیں، انہیں عوامی مسائل معلوم ہونا چاہیے، سپریم کورٹ

0
182

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ اراکین پارلیمنٹ عوام کے ووٹ سے آتے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ عوامی مسائل کیا ہیں۔

سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کی۔ ٹیکس پیئر کے وکیل خالد جاوید نے دلائل دیے کہ پالیسی میکنگ اور ٹیکس کلیکشن دو مختلف عمل ہیں، پالیسی بنانے کا کام پارلیمنٹ اور ٹیکس جمع کرنے کا کام ایف بی آر کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پالیسی میکرز عوامی مفاد کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو ماہرین سے مشورہ کرنا چاہیے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا پارلیمنٹ میں عوامی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے تجاویز دی جاتی ہیں؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ جو کمیٹیاں ٹیکس بل پر بحث کرتی ہیں، ان کے نتائج عوام تک کیوں نہیں پہنچائے جاتے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اصول یہ ہے کہ ٹیکس نافذ کرنے سے پہلے ماہرین کی رائے ضروری ہے، جبکہ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ٹیکس لگانے کے اثرات اور کتنے لوگ متاثر ہوں گے یہ بھی سامنے آنا چاہیے۔

سماعت کل ساڑھے نو بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا