تحریر و تحقیق: مسعود چوہدری
وزارتِ خزانہ کے اکنامک ایڈوائزر ونگ کی ستمبر 2026 کی ماہانہ رپورٹ پڑھیں تو پہلا تاثر اطمینان کا ملتا ہے ۔ ترسیلاتِ زر میں اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی، تین ارب ڈالر کے یورو بانڈ کا اجرا، ذخائر کی مضبوطی اور پرائمری سرپلس کا تسلسل قابل تعریف امور ہیں لیکن یہی رپورٹ جب اپنے چارٹس کے عنوان طے کرتی ہے تو لہجہ بدل جاتا ہے۔ رپورٹ کے صفحہ پانچ پر لکیروں کے درمیان صاف لکھا ہے کہ مالی پوزیشن دباؤ میں نظر آئی اور قیمتوں کا دباؤ دوبارہ بن رہا ہے۔ یہ تضاد محض اندازِ بیان کا نہیں، زمینی حقیقت کا ہے، اور اسی حقیقت کے سائے میں آئی ایم ایف کا مشن ان دنوں اسلام آباد میں توسیعی فنڈ سہولت کے چوتھے اور ماحولیاتی سہولت کے تیسرے جائزے پر بات کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مذاکرات دو ہفتے چلیں گے اور کامیابی پر تقریباً ایک ارب ڈالر اور 20 کروڑ ڈالر کی اقساط ملنے کی امید ہے، جبکہ پاکستان اب تک ان دونوں پروگراموں سے 4.8 ارب ڈالر وصول کر چکا ہے۔
یہاں بات مہنگائی سے شروع کرتے ہیں۔ اگست میں 11.1 فیصد کی شرح اسٹیٹ بینک کے درمیانی مدت کے 5 سے 7 فیصد ہدف سے تقریباً دگنی ہے، اور پالیسی ریٹ 11.5 فیصد ہونے کا مطلب ہے کہ مجموعی افراط زر یعنی مجموعی طور پر مہنگائی میں مسلسل اضافہ کے مقابلے میں حقیقی شرحِ سود بمشکل مثبت ہے۔ مانیٹری کمیٹی کا یہ استدلال اپنی جگہ درست ہے کہ بنیادی مہنگائی 8.8 اور 8.5 فیصد پر نسبتاً کم ہے اور اس پیمانے پر حقیقی شرح واضح طور پر مثبت ہے، لیکن متوسط گھرانوں کا بجٹ بنیادی افراد زر سے نہیں، بلکہ مجموعی مہنگائی کی شرح سے بنتا اور متاثر ہوتاہے۔ اس 11.1 فیصد میں 8.2 فیصد پوائنٹس خوراک، رہائش و یوٹیلیٹیز اور ٹرانسپورٹ سے آئے ہیں، یعنی وہی اخراجات جو کم آمدنی والے گھرانے کی کمائی کا بڑا حصہ نگل لیتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے لیے یہ اس لیے اہم ہے کہ پروگرام کی بنیاد مانیٹری سختی کے تسلسل پر ہے، اور قوم کو مسلسل لگنے والے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے جھٹکے کے بعد اصل سوال یہ ہی ہو گا کہ یہ حکومت کے آئ ایم ایف کا نام لیکر اٹھائے گئے اقدامات کب تک برقرار رکھنے پڑیں گے اور اس کی قیمت عوام کب تک ادا کرتے رہیں گے۔
مالیاتی تصویر اس سے بھی پیچیدہ ہے۔ ایف بی آر کی وصولیوں میں 3.7 فیصد اضافہ بظاہر خوش آئند ہے، مگر جب مہنگائی 11 فیصد کے قریب ہو تو یہ رسمی اضافہ حقیقی معنوں میں کمی کے مترادف ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وصولیوں میں اضافہ سیلز ٹیکس کے 13.8 فیصد سے آیا، جبکہ براہِ راست ٹیکس 2.9 فیصد اور کسٹمز کلیکشنز 4.0 فیصد گھٹ گئے، اور صرف اگست کی وصولی 901.2 ارب روپے رہی جو پچھلے سال سے 0.3 فیصد کم ہے۔ یعنی بوجھ بالواسطہ ٹیکسوں کی طرف ہی کھسک رہا ہے جو ہر صارف، امیر ہو یا غریب، یکساں ادا کرتا ہے۔ آئی ایم ایف سے متعلق اطلاعات میں جن امور کا ذکر ہے، یعنی قانونی ترامیم کا لمبا مطالبہ، سرکاری اداروں کی اصلاحات، خودمختار دولت فنڈ کے قانون میں ترمیم، گورننس اور انسدادِ بدعنوانی کی تشخیصی رپورٹ پر عمل اور قومی احتساب بیورو کی آزادی، وہ سب دراصل اسی مسئلے کے گرد گھومتے ہیں کہ ٹیکس کا دائرہ اور ریاستی اداروں کی کارکردگی بہتر کیے بغیر استحکام دیرپا نہیں ہو سکتا۔
سب سے چونکا دینے والا عدد سود کی ادائیگی کا ہے۔ صرف جولائی میں وفاق نے 792.9 ارب روپے سود پر خرچ کیے، جو ایک سال پہلے کے 490.4 ارب روپے سے تقریباً 62 فیصد زیادہ ہیں اور حکومتی جاری اخراجات کا تقریباً 73 فیصد بنتے ہیں، جبکہ غیر سودی جاری اخراجات 299.1 ارب روپے رہے۔ 277.1 روپے فی ڈالر کے حساب سے یہ رقم تقریباً 2.86 ارب ڈالر بنتی ہے، یعنی ایک ہی مہینے کا سود اس پورے 1.2 ارب ڈالر کی ممکنہ قسط سے دو گنا سے زیادہ ہے جس کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ یہ موازنہ ایک ماہ کے اعداد پر مبنی ہے اور ممکن ہے ادائیگیوں کے وقت کا فرق بھی اس میں کردار ادا کر رہا ہو۔ چند دن پہلے جاری کردہ نجی ادارہ کی ایک رپورٹ نے پورے سال کے لیے مارک اپ میں 22 فیصد اضافے کا اندازہ لگایا ہے۔ لیکن سمت واضح ہے جہاں پرائمری سرپلس 228.9 ارب سے گھٹ کر 196.3 ارب روپے، یعنی جی ڈی پی کے محض 0.1 فیصد، پر آ گیا ہے اور مالی خسارہ 0.2 سے بڑھ کر 0.4 فیصد ہو گیا ہے۔ اس سرپلس کی حفاظت آئی ایم ایف کی پہلی ترجیح ہو گی، اور اسی لیے ہر نئے اخراجاتی وعدے کو اس کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔
بیرونی شعبے کی کہانی اس کے برعکس ہے، مگر اس کا انحصار بھی بنیادی طور پر ایک ہی ستون پر ہے۔ جولائی اگست میں ترسیلاتِ زر 7.29 ارب ڈالر رہیں جو رپورٹ کے مطابق اشیا و خدمات کے 6.75 ارب ڈالر کے پورے خسارے سے زیادہ ہیں، اور خدمات کی برآمدات 28.8 فیصد بڑھیں۔ اس کے مقابلے میں اشیا کی برآمدات صرف 4.0 فیصد بڑھیں اور اگست میں 1.1 فیصد کم ہو گئیں، جبکہ درآمدات 11.4 فیصد بڑھ گئیں۔ یعنی کھاتہ محنت کشوں کی کمائی اور آئی ٹی کی برآمدات سے سنبھلا ہے، صنعتی برآمدی صلاحیت سے نہیں۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ وطن عزیز میں اسوقت آئ ٹی شعبہ انتہائ دباؤ کا شکار ہے جہاں غیر واضح پالیسی کے سبب این سی سی آئ اے ہر اس کاروبار کو بھی غیر قانونی قرار دیکر بند کروانے کے درپے ہے جو درست انداز میں حکومت کے ساتھ رجسٹر ہو کر آئ ٹی سروسز بین الاقوامی کلائینٹس کو مہیا کر رہے ہیں۔ پاکستان سافٹویئر ایکسپورٹ بورڈ جو کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت کال سینٹرز کا ریگولیٹر ادارہ ہے،کو عملی طور پر کھیل سے باہر کر دیا گیا ہوا ہے اور اب این سی سی آئ اے کے مطابق کال سینٹر اور سافٹویئر ڈویلپر وہی کام کر سکے گا جو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ساتھ رجسٹرڈ ہو گا۔ لہذا مزکورہ اداروں کی مکمل کوشش ہے کہ ترسیلات زر کا یہ حصہ مستقبل میں حکومت کے لیے زرمبادلہ وصول کرنے میں ناکام رہے۔ دوسری جانب پاکستان سے باہر جانے والوں کو روکنے کا مسلسل سلسلہ اپنے آپ میں ایک الگ کہانی ہے۔
چونکہ ترسیلات زر کا ایک بڑا حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے، اس لیے خلیج کا امن محض دفاعی نہیں، خالص معاشی مفاد بھی ہے۔وزیراعظم کے 13 روزہ دورۂ امریکہ و برطانیہ کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب اور عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے ساتھ مالیاتی اداروں کے نمائندوں اور کاروباری شخصیات سے ہونے والی گفتگو کا اصل امتحان سرمایہ کاری کے اعداد میں ہو گا، اور ان کے ٹھوس نتائج پر ابھی کوئی جامع تفصیل سامنے نہیں آئی۔ تازہ اعداد کچھ حوصلہ ضرور دیتے ہیں جہاں براہِ راست سرمایہ کاری دو ماہ میں 494.5 ملین ڈالر رہی، جبکہ پورے مالی سال 2026 میں یہ 1,672.3 ملین ڈالر تھی۔ مگر یورو بانڈ کے 3 ارب ڈالر کے مقابلے میں یہ رقم چھوٹی ہے، یعنی ذخائر کو سہارا قرض سے ملا ہے، سرمایہ کاری سے نہیں۔ یاد رہے کہ 16 ستمبر کو امریکی فیڈرل ریزرو نے شرحِ سود بڑھا کر 3.75 سے 4.00 فیصد کر دی ہے، جس کے بعد ابھرتی معیشتوں کے لیے سرمایہ مہنگا ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں اسٹاک مارکیٹ بھی محتاط نظر آتی ہے جہاں رپورٹ کے مطابق اگست کے اختتام پر انڈیکس 176,976 پر تھا، جبکہ اسی رپورٹ کے جدول میں 29 ستمبر کو یہ 169,600 دکھایا گیا ہے، یعنی تقریباً 4.2 فیصد کم، اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن جون کے 71.17 ارب ڈالر کے مقابلے میں 68.17 ارب ڈالر ہے، حالانکہ سرکاری بیانیے میں ریٹنگ اپ گریڈ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
اس معاشی منظرنامے کا ایک سلامتی پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بطور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف 7 اگست کو مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی عملی تشکیل کے مراحل میں نمایاں طور پر شریک ہوئے جہاں استنبول میں اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس، اتحاد کے پہلے سیکرٹری جنرل کی تقرری، اور گزشتہ ہفتے ریاض میں تینوں ممالک کے عسکری سربراہان کا اجلاس، جو سعودی تنصیبات پر حملوں کے تناظر میں ہوا۔ اس کے ساتھ ستمبر 2025 کا پاکستان اور سعودی عرب کا باہمی دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے۔ معاشی زاویے سے اس میں تین باتیں قابلِ غور ہیں۔ پہلی یہ کہ اجتماعی دفاع کی ذمہ داری ایک مشروط مالی بوجھ ہے
جسکے تناظر میں زیرِ نظر رپورٹ میں دفاعی اخراجات یا اتحادی ذمہ داریوں کی لاگت کے بارے میں تاحال کوئی اعداد و شمار موجود نہیں۔ یقینی طور پر پارلیمان اور عوام کو مالی فوائد سے آگاہ کیا جائے گا کہ یہ وعدے اس مالیاتی دائرے میں کہاں بیٹھتے ہیں جس کا آئی ایم ایف جائزہ لے رہا ہے۔ دوسری یہ کہ خلیجی شراکت دار ترسیلات کا بھی ذریعہ ہیں اور سرمایہ کاری کا بھی، اس لیے دفاعی قربت کا امتحان یہ ہے کہ وہ سرمایہ کاری کے بہاؤ میں ڈھلتی ہے یا مالیاتی طور پر علامتی ہی رہ جاتی ہے۔ تیسری اور سب سے براہِ راست بات یہ کہ تیل کی جس قیمت نے مہنگائی کو 11.1 فیصد تک پہنچایا ہے، وہ خطے کے امن سے جڑی ہے۔ اس لیے وزیراعظم کا جنرل اسمبلی میں ثالثی پر زور اور رپورٹس کے مطابق ایران جنگ کے دوران فیلڈ مارشل کی ثالثی کوششیں سفارتی تکلف نہیں، بلکہ مہنگائی کی پالیسی کا دوسرا نام ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ ستمبر کی رپورٹ استحکام کی کہانی بھی ہے اور آزمائش کی بھی۔ بیرونی کھاتہ سنبھلا ہے، ذخائر بہتر ہیں، پرائمری سرپلس باقی ہے، لیکن مہنگائی دوبارہ دہرے ہندسے میں ہے، سود کا بوجھ آمدن کو نگل رہا ہے، ٹیکس کا دائرہ تنگ ہے اور ترسیلات پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ آئی ایم ایف کا جائزہ دو ہفتے میں نمٹ جائے گا اور قسط بھی مل جائے گا، لیکن اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ یہ قسط وقت خریدتی ہے جبکہ اصلاحات مستقبل پائیدار بناتی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس مہلت کو ہم ٹیکس نیٹ کی وسعت، سرکاری اداروں کی اصلاح، کرپشن کے خاتمے اور برآمدی صنعت کی بحالی میں بدلتے ہیں، یا اگلے جائزے تک ایک اور بیانیے میں اپنا وقت گزارنے کو ہی فوقیت دیتے ہیں۔





