جی ایچ کیو حملہ کیس، وکلا اور پراسیکیوٹر کے مابین تلخ کلامی

0
195

انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے دوران وکلائے صفائی اور پراسیکیوٹر کے درمیان گرما گرمی پیدا ہوگئی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے ٹرائل روکنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے جس پر سماعت جاری تھی۔

سماعت کے دوران وکیل فیصل ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی گزشتہ دو سماعتوں میں نہ گواہوں کو دیکھ سکے اور نہ ہی اپنے وکلا کو سن سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم کو ٹرائل کا حصہ بنائے بغیر کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ بانی پی ٹی آئی نے ملاقات کے دوران کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا عدالت میں کیا ہو رہا ہے، اس لیے ٹرائل کی منتقلی سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے تک کارروائی روکی جائے۔

وکیل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ٹرائل میں شامل کیا جائے، ہم تعاون کے لیے تیار ہیں۔ مؤقف تھا کہ ہر سماعت سے قبل وکلا کو اپنے مؤکل سے مشاورت کا حق دیا جائے۔ عمران خان کے وکیل ملک وحید انجم نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کا لیڈ کونسل وہ ہیں اور گواہوں پر جرح بھی وہی کریں گے۔

پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے خود وڈیو لنک حاضری کی درخواست دی تھی اور 2023ء میں قانون شہادت میں ترمیم کے بعد وڈیو لنک کے استعمال کی مکمل اجازت دی جا چکی ہے۔ ان کے مطابق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 21 بھی وڈیو لنک حاضری کی اجازت دیتی ہے۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ بار بار بائیکاٹ عدالتی کارروائی کو ہائی جیک کرنے کے مترادف ہے، ایسی صورت میں وکلا کے خلاف پنجاب بار کونسل کو ریفرنس بھیجا جا سکتا ہے۔

دورانِ دلائل وکلائے صفائی اور پراسیکیوشن ٹیم کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ وکلائے صفائی نے کہا کہ ٹرائل اس طرح آگے نہیں چلنے دیں گے، جس پر پراسیکیوٹر اکرام امین منہاس نے جواب دیا کہ ٹرائل کسی صورت نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وکلائے صفائی گزشتہ دو ہفتوں سے عدالت میں ڈراما کر رہے ہیں اور دلائل کے بجائے سیاسی تقاریر کرتے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب تک پنجاب حکومت کے نوٹیفکیشن کو معطل نہیں کیا جاتا، ٹرائل نہیں رک سکتا۔ عدالت پہلے ہی درخواستوں پر فیصلہ دے چکی ہے اور حیرت ہے کہ وکلا انہیں پڑھتے ہی نہیں۔

وکیل فیصل ملک کی میڈیا سے گفتگو

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک نے کہا کہ گواہان کو بانی پی ٹی آئی کی موجودگی میں پیش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عدالت میں ’’واٹس ایپ ٹرائل‘‘ دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو ان کے مؤکل کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو ٹرائل کو ہم مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں کیونکہ نہ بانی پی ٹی آئی کو پیش کیا گیا اور نہ ہی انہیں کچھ سنائی دے رہا تھا۔ اگر انہیں عدالت نہیں لایا جا سکتا تو ٹرائل جیل میں ہونا چاہیے۔ فیصل ملک کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی غیر موجودگی میں ہونے والی کارروائی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور وہ ہائی کورٹ سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا