پابندیوں کے دوبارہ نفاذ پر ایران کا سخت ردِ عمل، صدر نے عالمی طاقتوں کو خبردار کر دیا

0
159

تہران: ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے بین الاقوامی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو غیر منصفانہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی اور فوجی پابندیاں آج رات سے نافذِ عمل ہوں گی۔ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2016 میں جوہری پروگرام پر معاہدے کے بعد عائد پابندیاں پہلے اٹھائی گئی تھیں۔

صدر پیزشکیان نے کہا کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا تھا کہ ایران نے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے بعد اقوامِ متحدہ نے تہران کو معاہدے پر عمل درآمد کے لیے 30 دن کا وقت دیا تھا۔ نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں صدر نے بیرونی طاقتوں پر الزام لگایا کہ وہ خطے کو عدم استحکام میں دھکیلنے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں اور ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے دستبردار نہیں ہو رہا۔

امریکی ٹی وی کے انٹرویو میں صدر پیزشکیان نے خبردار کیا کہ “ہم جنگ سے نہیں ڈرتے، ہم جنگ کے خواہاں نہیں، لیکن جو راستہ اختیار کیا جا رہا ہے وہ پورے خطے کو آگ لگا سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے کبھی جنگ شروع نہیں کی اور نہ کرے گا، مگر اگر کسی نے حملہ کیا تو وہ پوری قوت سے جواب دے گا اور اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ جاری رکھے گا تاکہ کوئی انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔

صدر نے کہا کہ دشمن نے حملہ اس لیے کیا کہ “ہمیں بھی دوسروں کی طرح شہید کر سکیں” تاہم تہران موت یا شہادت سے نہیں ڈرتا۔ اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے والے پاؤں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ زخمی پن معمولی تھا—گھٹنے کے قریب خون جمع ہو گیا تھا جو نکال دیا گیا اور اس کے بعد سب ٹھیک ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا