لداخ میں مودی سرکار کی ریاستی دہشت گردی؛ مزید 4 افراد ہلاک، احتجاجی رہنما گرفتار

0
185

مقبوضہ کشمیر کے علاقے لداخ میں علیحدہ ریاستی حیثیت اور خصوصی حقوق کے لیے جاری احتجاجی تحریک پر بھارتی انتظامیہ نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔
مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ احتجاج کی قیادت کرنے والے ماحولیاتی رہنما سونم وانگچک کو گرفتار کر لیا گیا۔
رواں ماہ کی ابتدا سے جاری مظاہروں میں اب تک 20 سے زائد افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
بھارتی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سونم وانگچک اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے عوام کو تشدد پر اکسا رہے تھے، جس کے بعد ان کی تنظیم اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا۔
2019 میں بھارتی حکومت نے لداخ کو جموں و کشمیر سے الگ کر کے براہِ راست وفاق کے زیر انتظام کر دیا تھا اور آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔
مقامی رہنما اور عوام ریاستی درجہ، ملازمتوں میں کوٹہ اور قبائلی علاقوں کے تحفظ کے لیے بھوک ہڑتال اور احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور 6 اکتوبر کو متوقع ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا