آئی ایم ایف نے پاکستان سے بجلی چوری اور کیپسٹی چارجز میں کمی کے لیے تجاویز طلب کر لیں

0
163

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان حکومت سے بجلی چوری روکنے، نقصانات کم کرنے اور کیپسٹی چارجز میں کمی کے لیے تفصیلی تجاویز طلب کر لیں۔ آئی ایم ایف نے صوبائی حکومتوں کے سرپلس بجٹ اہداف میں کمی کی وجوہات، لائن لاسز اور بجلی چوری کے مسائل کے حل کے لیے منصوبے مانگے ہیں۔

وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ گردشی قرض مقررہ 6 سالہ ہدف سے پہلے ہی ختم کر دیا جائے گا، جس سے قرض کے بہاؤ میں کمی، مالیاتی ڈسپلن اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا جبکہ صارفین پر کوئی نیا بوجھ نہیں آئے گا۔ حکومتی ٹیم نے بتایا کہ 1200 ارب روپے کے بجٹ ہدف کے مقابلے میں صوبوں کا سرپلس 921 ارب رہا، جس میں پنجاب 348 ارب، سندھ 283 ارب، خیبر پختونخوا 176 ارب اور بلوچستان 114 ارب شامل ہیں۔

آئی ایم ایف کو نجی پاور پلانٹس کے ساتھ مذاکرات اور تین منافع بخش ڈسکوز کی نجکاری پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نقصانات میں چلنے والی کمپنیوں کا انتظامی کنٹرول نجی شعبے کو منتقل کرنے کے منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی۔

نئے قرض معاہدے میں 660 ارب روپے کے پرانے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ اور 565 ارب روپے کی نئی فنانسنگ شامل ہے۔ آئی ایم ایف مشن کو توانائی شعبے میں اصلاحات اور بجلی کے نقصانات کم کرنے کے حوالے سے مکمل پلان پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا