انجینیئر محمد علی مرزا کیخلاف اسلامی نظریاتی کونسل کی قرارداد پر اٹارنی جنرل سے معاونت طلب

0
123

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مذہبی اسکالر انجینیئر محمد علی مرزا کو اسلامی نظریاتی کونسل کی قرارداد میں گستاخ قرار دینے کے خلاف دائر درخواست پر اٹارنی جنرل سے 5 نومبر کو عدالتی معاونت طلب کر لی۔ عدالت نے اسلامی نظریاتی کونسل، ایف آئی اے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ڈاکٹر اسلم خاکی کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بغیر وضاحت کے انجینیئر محمد علی مرزا کو گستاخ قرار دے دیا ہے، حالانکہ یہ اقدام قانونی طور پر درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “اس طرح کے فتوے پہلے مجھ پر بھی لگ چکے ہیں، لہٰذا میں اس معاملے کی سنگینی کو سمجھتا ہوں۔”

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ تو جہلم میں درج ہے، پھر کونسل تک معاملہ کیسے پہنچا؟ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے اسلامی نظریاتی کونسل کو معاونت کے لیے خط لکھا تھا، حالانکہ قانون کے مطابق صرف صدر، گورنر یا پارلیمنٹ ایسا کر سکتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ ریکارڈ آنے کے بعد الزامات اور بیان واضح ہو جائیں گے، اس کے بعد ہی یہ طے کیا جائے گا کہ درخواست قابلِ سماعت ہے یا نہیں۔ کیس کی مزید سماعت 5 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا