پاک فوج کی بڑی کارروائیاں، 4 روز میں 130 سے زائد خوارج ہلاک

0
572

جنوبی وزیرستان میں پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں نے افغان اور بھارتی گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتے ہوئے بڑی کارروائیاں کی ہیں۔ چار روز میں 130 سے زائد خوارج ہلاک ہوئے، جبکہ قبائلی عوام نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 13 سے 15 اکتوبر تک خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں مجموعی طور پر 34 دہشت گرد مارے گئے۔

شمالی وزیرستان کے اسپن وام میں 18، جنوبی وزیرستان میں 8 اور ضلع بنوں میں مزید 8 دہشت گرد کارروائیوں میں ہلاک ہوئے۔

سیکیورٹی فورسز کے مطابق خوارج کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں اور عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ضلع مہمند میں دراندازی کی بڑی کوشش ناکام بناتے ہوئے 45 سے 50 دہشت گردوں کو مار دیا گیا۔ یہ کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی تھی۔

فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹے جاری رہا اور علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان رجیم اور بھارت کے درمیان پروپیگنڈا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا ہے۔ بھارت خوارج اور افغان طالبان کو پاکستان مخالف عزائم کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے جھوٹے بیانات کو بھارتی میڈیا نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا، مگر فیکٹ چیک پلیٹ فارم “گروک” نے ان دعوؤں کو جھوٹا قرار دیا۔

دوستی گیٹ سے متعلق افغان ترجمان کے جھوٹے بیان کی بھی تردید کی گئی۔ پاکستانی گیٹ مکمل حالت میں موجود ہے جبکہ افغان گیٹ کو خود طالبان نے آئی ای ڈی سے تباہ کیا۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ بھارتی میڈیا جعلی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے پاکستان مخالف پروپیگنڈے میں مصروف ہے۔

بلوچستان کے ضلع چمن میں کاکڑ قبیلے کے عمائدین نے پاک فوج سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وطن ماں جیسا ہے، ہم ہر قربانی کے لیے تیار ہیں۔

افغانستان میں عوام اور تاجر برادری نے طالبان حکومت کے خلاف آواز اٹھائی اور پاکستان سے تجارت بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

افغان تاجروں کے مطابق طورخم بارڈر کی بندش سے سب سے زیادہ نقصان افغان عوام کو ہو رہا ہے اور ہزاروں گاڑیوں کا سامان خراب ہونے کے خدشات ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا