چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ چین خفیہ ایٹمی تجربات کر رہا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے کہا کہ چین کئی دہائیوں سے جوہری تجربات پر عائد غیر رسمی پابندی کی مکمل پاسداری کر رہا ہے اور ایک ذمہ دار ایٹمی ملک کے طور پر اپنے وعدوں پر قائم ہے۔
ترجمان کے مطابق چین عدم پھیلاؤ، تخفیفِ اسلحہ اور ایٹم بم کے پہل کی بنیاد پر استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے اور امریکا کو بھی ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو عالمی امن کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا تھا کہ چین، روس، شمالی کوریا اور پاکستان زیرِ زمین خفیہ جوہری تجربات کر رہے ہیں اور امریکا کو بھی اپنے جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے چاہئیں۔
پس منظر کے مطابق امریکا نے 1992، چین نے 1996 اور روس نے 1990 کے بعد کوئی ایٹمی دھماکا نہیں کیا، البتہ یہ ممالک غیر جوہری نوعیت کے ’’non-critical‘‘ تجربات کرتے ہیں۔ روس نے حال ہی میں جوہری صلاحیت رکھنے والے نئے میزائل اور زیرِ آب ڈرون کے تجربات کا اعلان بھی کیا تھا۔






