سائبر کرائم کے افسران بھتہ خور نکلے

0
481

اسلام آباد: سائبر کرائم کی تحقیقات کرنے والے ادارے این سی سی آئی اے میں کرپشن کے مبینہ سکینڈل کی رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق راولپنڈی میں 15 غیر قانونی کال سینٹرز سے ماہانہ 15 ملین روپے وصول کیے جاتے تھے۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد حیدر کی ٹیم نے یہ رقم فرنٹ مین حسن امیر کے ذریعے وصول کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ستمبر 2024 سے اپریل 2025 تک مجموعی طور پر 120 ملین روپے جمع کیے گئے۔

تفتیش میں انکشاف ہوا کہ سب انسپکٹر بلال نے نئے کال سینٹر کے لیے ماہانہ آٹھ لاکھ روپے طے کیے۔ اسلام آباد کے سیکٹر ایف الیون میں کال سینٹر پر چھاپہ مار کر ڈیل 40 ملین روپے میں فائنل کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مئی 2025 میں عامر نذیر کو راولپنڈی آفس کی کمانڈ دی گئی، جبکہ ندیم خان اور صارم علی سمیت دیگر افسران بھی بھتہ وصولی کے سلسلے میں ملوث رہے۔ ایک کال سینٹر پر چھاپے کے دوران 14 چینی شہری گرفتار کیے گئے، جن میں سے بعض کی رہائی کے لیے بھاری رقم وصول کی گئی۔

صرام علی کے فرنٹ مین کے ذریعے چینی شہری کیلون کی بیوی سے رابطہ کیا گیا اور 8 ملین روپے وصول کیے گئے۔ دیگر 13 شہریوں کی رہائی کے لیے 12 ملین روپے لیے گئے، جس کے بعد حاصل شدہ رقم افسران میں تقسیم کی گئی۔

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا