امریکا نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں، جس کے تحت ابوظہبی میں روسی حکام کے ساتھ مذاکرات کا ایک اہم دور بھی منعقد ہوا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ایک بڑی پیشرفت کرتے ہوئے امریکی صدر کے امن منصوبے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ صدر زیلنسکی نے کہا کہ وہ امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے جنگ بندی فریم ورک کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں اور منصوبے کے متنازع نکات امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں طے کیے جائیں گے۔
یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ روس—یوکرین امن مذاکرات میں یورپی اتحادیوں کی شمولیت ضروری ہے تاکہ کوئی فیصلہ یوکرین یا یورپ کے مفاد کے خلاف نہ ہو۔ انہوں نے اتحادی ممالک کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ امن مذاکرات کے لیے بنیادی فریم ورک موجود ہے اور یوکرین مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاہم امریکی صدر کی ذاتی شمولیت ناگزیر ہے۔
ادھر امریکی اور یوکرینی مذاکرات کار امن منصوبے پر موجود اختلافات کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یوکرین کو خدشہ ہے کہ کہیں اس پر ایسا معاہدہ مسلط نہ کر دیا جائے جو زیادہ تر روسی شرائط کے مطابق ہو۔
وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ “ہم یوکرین جنگ کے خاتمے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور یہ عمل جلد مکمل ہو جائے گا۔”
یوکرین کے قومی سلامتی مشیر رستم عمروف نے بتایا کہ صدر زیلنسکی آئندہ چند روز میں امریکا کا دورہ کر کے حتمی معاہدے پر گفتگو کر سکتے ہیں، تاہم واشنگٹن نے دورے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا نے روس اور یوکرین کو ایک میز پر لانے میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے، اگرچہ ابھی کچھ نازک مگر قابلِ حل نکات باقی ہیں۔
اسی سلسلے میں اتوار کو جنیوا میں امریکی اور یوکرینی مذاکرات کاروں کی اہم ملاقات ہوئی جبکہ پیر اور منگل کو امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول نے ابوظہبی میں روسی حکام سے مذاکرات کیے۔






