تھائی لینڈ ،کمبوڈیا میں دوبارہ جنگ شروع

0
231

بنکاک اور نوم پنہ: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔ تھائی لینڈ نے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کمبوڈیا کے سرحدی علاقے میں فضائی حملے کیے ہیں۔

تھائی فوج نے تصدیق کی ہے کہ مشرقی صوبے اوبن راتچاتھانی کے دو علاقوں میں تازہ جھڑپوں کے دوران کم از کم ایک تھائی فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔ فوجی بیان میں کہا گیا کہ اب کئی علاقوں میں فوجی اہداف پر طیاروں کے ذریعے حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔

کمبوڈیا کی وزارتِ دفاع کے مطابق تھائی فوج نے صبح کے وقت دو مقامات پر حملے کیے، جبکہ کمبوڈین فوج نے جوابی کارروائی نہیں کی۔ تھائی فوج کا کہنا ہے کہ کمبوڈین افواج نے تھائی شہری آبادی والے علاقوں کی جانب BM-21 راکٹ داغے، تاہم جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع جولائی میں پانچ روزہ جھڑپوں میں تبدیل ہوا تھا، جس کے بعد ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم اور صدر ٹرمپ کی ثالثی میں جنگ بندی طے پائی تھی۔ اکتوبر میں کوالالمپور میں ایک وسیع تر امن معاہدے پر بھی دستخط ہوئے تھے۔ جولائی کی جھڑپوں میں کم از کم 48 افراد ہلاک اور تقریباً 3 لاکھ افراد عارضی طور پر نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔

کمبوڈیا کے وزیرِاعظم ہُن مانیت کے والد ہُن سین نے تھائی فوج کو جارح قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمبوڈین فورسز صبر و تحمل سے کام لیں۔ انہوں نے تمام کمانڈروں سے کہا کہ وہ اپنے افسروں اور سپاہیوں کو مکمل آگاہی دیں تاکہ کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی سرخ لکیر کے اندر رہے۔

تھائی فوج کے مطابق سرحدی اضلاع کے چار علاقوں سے 3 لاکھ 85 ہزار سے زائد شہریوں کا انخلا جاری ہے، جن میں سے 35 ہزار سے زائد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان 817 کلومیٹر طویل سرحد کے کئی حصوں پر ایک صدی سے زائد عرصے سے جھگڑا جاری ہے، جو پہلی بار 1907 میں نقشہ بند کیا گیا تھا، جب فرانس کمبوڈیا پر نوآبادیاتی حکمرانی کر رہا تھا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا