ایران نے رواں سال افغانستان کی سرحد کے ساتھ اسلام قلعہ گزرگاہ کے ذریعے تقریباً 18 لاکھ افغان مہاجرین کو واپس افغانستان بھیجا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ تعداد صرف اسلام قلعہ کے راستے واپس جانے والے افراد کی ہے، جبکہ صوبہ خراسانِ رضوی کے گورنر کے مطابق کچھ مہاجرین کو اُن کے صوبے سے اور باقی کو ملک کی 11 دیگر صوبائی سرحدوں سے واپس بھیجا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق افغان مہاجرین کی یہ تعداد غیر معمولی ہے اور حالیہ برسوں میں اتنی بڑی تعداد میں واپسی پہلے رپورٹ نہیں ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال، خصوصاً اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد، مہاجرین کی واپسی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔
اگرچہ واپسی کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے، لیکن رپورٹس کے مطابق گرمیوں کے مقابلے میں یومیہ واپسی کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق اس بڑے پیمانے کی واپسی سے سرحدی علاقوں میں انسانی بحران، رہائش کی قلت اور بنیادی سہولیات تک محدود رسائی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔






