افغانستان میں دھماکے، 8 طالبان ہلاک

0
375

افغانستان کے صوبے پنجشیر میں طالبان حکومت کے خلاف مزاحمت جاری ہے، جہاں دو سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر دھماکے ہوئے۔ اس میں کم از کم آٹھ طالبان ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔

حملہ عبداللہ خیل وادی کے منجنستو علاقے میں صبح تقریباً 7:40 بجے ہوا، جہاں طالبان کا ایک مرکزی آؤٹ پوسٹ واقع ہے۔ دھماکے ایک ایسے کمپاؤنڈ میں ہوئے جو مولوی ملک کے نام سے جانے جانے والے شخص کی ملکیت میں تھا۔

دھماکوں کے بعد طالبان نے وادی کے کچھ حصوں کو سیل کر دیا اور مقامی لوگوں سے پوچھ گچھ شروع کر دی۔ تاحال کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

طالبان حکومت کے خلاف ملک کے دیگر حصوں میں بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں، جبکہ پنجشیر میں مقامی مزاحمتی گروپ فعال ہیں۔ پنجشیر وادی افغانستان کا واحد علاقہ ہے جہاں طالبان کے خلاف مزاحمت اب بھی جاری ہے۔

70 اور 80 کی دہائیوں میں سویت یونین کے خلاف محمود درہ وادی کی مزاحمت نے سر اُٹھایا اور غیرملکی فوج کو بھاگنے پر مجبور کیا تھا۔ “شیر پنجشیر” احمد شاہ مسعود نے طالبان کی پہلی حکومت کے خلاف بھی مزاحمت کی۔

احمد شاہ مسعود خودکش بمبار کے حملے میں مارے گئے، لیکن طالبان پہلے دور حکومت میں پنجشیر پر قبضہ نہ کر سکے۔ اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی وادی میں مزاحمت جاری ہے۔ گزشتہ برس میں کئی دھماکے اور حملے دیکھے گئے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا